وزیر اعظم نریندر مودی کے بھگوان باباآسارام کوعصمت دری کے الزام میں عمر قید کی سزا

میڈیا رپورٹوں کے مطابق جیسے ہی آسارام کی سزا کا اعلان ہوا وہ عدالت میں ہی زار و قطار رونے لگا۔ ادھر آسارام کے آشرم کی ترجمان نیلم دوبے نے کہا کہ ’’ہم عدالت کے فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کریں گے

وزیر اعظم نریندر مودی کے بھگوان باباآسارام  کوعصمت دری کے الزام میں عمر قید کی سزا

مشہور ہندو گرو اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت لاکھوں ہندؤوں کے بھگوا ن سمجھے جانے والے باباآسارام کو جودھپور کی عدالت نے ریپ کا مجرم قراردینے کے بعد عمر قید کی سزا سنادی ہےجبکہ کہ شلپی گپتا عرف سنچیتا گپتا، شرت چندر، شیوا عرف سیوارام کو 20-20سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔سال 2013 میں آسارام کے خلاف یو پی کے شاہجہانپور کی ایک لڑکی نے عصمت دری کا سنسنی خیز الزام لگایا تھا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق جیسے ہی آسارام کی سزا کا اعلان ہوا وہ عدالت میں ہی زار و قطار رونے لگا۔ ادھر آسارام کے آشرم کی ترجمان نیلم دوبے نے کہا کہ ’’ہم عدالت کے فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کریں گے۔‘‘اس سے قبل عصمت دری کے معاملہ میں آسارام سمیت 3 افراد کوآج عدالت نے مجرم قرار دیاتھا جبکہ دو ملزما ن کو عدالت نے بری کر دیا۔ یہ فیصلہ جودھپور کی ایس سی-ایس ٹی عدالت نے سنایا ہے۔ نابالغ لڑکی سے عصمت دری کے معاملہ میں عدالت نے آسارام کے ساتھ شلپی گپتا عرف سنچیتا گپتا، شرت چندر، شیوا عرف سیوارام اور باورچی پرکاش دویدی کو ملزم بنایا گیا تھا۔ اس فیصلے پر ملک بھر کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں اور آسارام کے مرید کل سے ہی ان کے حق میں مہم چلا رہے ہیں اور پوچا ارچنا بھی کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ آسارام لاکھوں ہندووں کے بھکت مانے جاتے تھے ۔وزیر اعظم مودی بھی ان کے بھکتوں اور عقیدت مندوں میں شامل رہے ہیں، 2014 میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد جب پی ایم مودی آسارام کے آشرم گئے تھے تو انہوں نے کہا کہ مودی میرے آشرواد سے پی ایم بنے ہیں ،

واضح رہے کہ آسارام پر ایک  نابالغ لڑکی نے عصمت دری اور ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں  2013  م؛م؛ں مقدمہ درج کیا تھا جب سے وہ جودھپور کی جیل میں بند ہیں۔  17 اپریل کو راجستھان ہائی کورٹ نے آسا رام کے خلاف عصمت دری معاملے کی سماعت کر رہے ٹرائل کورٹ کو فیصلہ سنانے کا انتظام جودھپور جیل کے اندر کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو اس کے لیے سبھی ضروری انتظامات جیل احاطہ میں ہی کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ آسا رام کے مرید جودھپور شہر میں قانون و انتظام کے لیے مسئلہ بھی کھڑا کر سکتے ہیں۔

اس درمیان فیصلے کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے متاثرہ اور اس کے گھر کے آس پاس سیکورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ 5 پولس اہلکار کو 24 گھنٹے متاثرہ کے گھر پر تعینات کیا گیا ہے جو ہر آنے جانے والوں پر سخت نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پولس نے بتایا ہے کہ کسی بھی مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے ریزرو فورس تیار ہے۔

بشکریہ ملت ٹائمز

 



متعللقہ خبریں