ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں - 19.06.2017

ترک ذرائع ابلاغ

ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں - 19.06.2017

*** روزنامہ وطن  نے " پیرس ائیر شو پر ترکی  کی مہر ثبت"  کے زیر عنوان اپنی خبر میں لکھا ہے کہ   دنیا کے عظیم   ترین ائیر شو  کل پیرس میں شروع ہو رہا ہے۔    اس ائیر شو میں   میں ترکی  کی فرم  تائی  حصہ لے رہی ہے۔  ترکی کی جانب سے  تیار کیے جانے والے طیاروں  کواس شو میں پیش کیا جائے گا۔ اس شو میں ترکی کی جانب سے تیار کردہ  چھ ٹن وزنی   طیارہ جو   بارہ سیٹوں پر مشتمل ہے پہلی بار   اپنی پرواز کرے  گا ۔

 

***روزنامہ خبر ترک   نے " ترکی اور امریکہ  کے درمیان  ایف  -35   سمجھوتہ" کے زیر عنوان  اپنی خبر میں لکھا ہے کہ  ترکی اور امریکہ کے اشتراک سے تیار کیے جانے والے ایف 35 قسم کے طیاروں  کے  11 مختلف ممالک کو فروخت کیے جائیں گے۔   سن 2006 سے تیار کیے جانے والے   یہ طایرے کل پیرس ائیر شو میں بھی   پیش کیے جائیں گے۔ ترکی اور امریکہ کے اشتراک سے تیار کیے جانے والے  یہ طیارے   آسٹریلیا،  ڈنمارک، اسرائیل،  اٹلی،  جاپان،  ہالینڈ ، جنوبی  کوریا اور  برطانیہ کو فروخت کیے جائیں گے۔

 

***روزنامہ سٹار  نے " ترک فوج قطر کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر فوجی مشقیں کریں گے" کی سرخی کے تحت اپنی خبر میں لکھا ہے کہ   ترکی اور  قطر کے درمیان  طے پانے والے   سمجھوتے کی رو سے  قطر جانے والے ترک فوجی  قطر کی فوج کے ہمراہ  مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کریں گے۔   سعودی عرب،مصر اور دیگر عرب ممالک کی جانب سے قطرسے سفارتی  تعلقات مقطع کیے جانے  کے   بعد ترکی اور قطر کے درمیان  مشترکہ فوجی مشقیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔

 

***روزنامہ صباح نے "  ترکی بحری جہاز   امدادی سازو سامان لے کر غزہ روانہ"  کے زیر عنوان اپنی خبر میں لکھا ہے کہ   اسرائیل کی جانب سے  محاصرہ کیے جانے والے   غزہ  کے علاقے  کو غذائی  امداد فراہم  کرنے کے لیے  کل   ایک بحری جہاز  غزہ کی جانب روانہ ہوگیا ہے۔ اس بحری جہاز پر  10 ہزار  600 ٹن امدادی سامان موجود ہے۔

 

***روزنامہ ینی شفق  نے " ڈنمارک   میں مذہبِ اسلام کی  پھولوں  کے ساتھ اشاعت " کے زیر عنوان اپنی خبر میں لکھا  ہے کہ  ڈنمارک   میں مذہب اسلام کی اشاعت کرنے والی نوجوانوں کے ونگ نے   مذہب اسلام  کی شاعت سے متعلق  اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے تاکہ  ڈنمارک میں  مسلمانوں کے خلاف پیدا ہونے  اپنی  نفرت کو دور کرنے  کے لیے پھولو ں کا سہارا لیا ہے تاکہ مسلمانوں کے خلاف تعصب کی فضا کو ختم کیا جا سکے۔

 



متعللقہ خبریں