ہم دریائے اردن کے مغربی کنارے کے الحاق کے بارے میں امریکہ سے بات چیت کر رہے ہیں: نیتان یاہو

دریائے اردن کے مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کے لئے ہم دو اہم اصولوں پر کاربند ہیں پہلا امریکیوں کے ساتھ کو آرڈینیشن دوسرا یہ کہ یہ اقدام نجی نہیں حکومتی ہونا چاہیے  کیونکہ  یہ ایک تاریخی اقدام ہے: بنیامین نیتان یاہو

ہم دریائے اردن کے مغربی کنارے کے الحاق کے بارے میں امریکہ سے بات چیت کر رہے ہیں: نیتان یاہو

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتان یاہو نے کہا ہے کہ ہم نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کا الحاق کر کے اس کی مکمل خود مختاری  کو یقینی بنانے کے موضوع پر امریکی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کی ہے۔

اسرائیل کے وزارت اعظمیٰ  ترجمان دفتر کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق نیتان یاہو نے کل اپنی زیر قیادت لیکوڈ پارٹی کے اسمبلی ممبران کے ساتھ اجلاس کیا۔

اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ  ہم نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کی مکمل خود مختاری اور یہاں کی غیر قانونی یہودی بستیوں کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کے موضوع پر امریکی انتظامیہ سے   بات چیت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "دریائے اردن کے مغربی کنارے کی مکمل خود مختاری  کے معاملے پر میں کچھ عرصے سے امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کر رہا ہوں۔ اس معاملے میں ہم دو اہم اصولوں پر کاربند ہیں پہلا امریکیوں کے ساتھ کو آرڈینیشن دوسرا یہ کہ یہ اقدام نجی نہیں حکومتی ہونا چاہیے  کیونکہ  یہ ایک تاریخی اقدام ہے"۔

اس کے برعکس  اسرائیلی ذرائع ابلاغ  میں وائٹ ہاوس کے ترجمان جوش رافل  کے بیان کو جگہ دی گئی ہے کہ جس میں انہوں نے  دریائے اردن کے مغربی کنارے کے الحاق  کے موضوع پر واشنگٹن انتظامیہ کی اسرائیل  کے ساتھ ملاقات سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔

رافل نے کہا ہے کہ "اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایسی کسی تجویز پر بحث نہیں ہوئی۔ امریکہ کے صدر اپنی پوری توجہ کو  اسرائیل اور فلسطین  کے درمیان ایک نئے امن مرحلے پر مرکوز کئے ہوئے ہیں"۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال کے آخر میں لیکوڈ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے ، دریائے اردن کے مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ الحاق سے متعلق ایک مسودہ بل اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا۔

فلسطین کے صدارتی ترجمان نبیل ابو روضینہ  نے بھی  اسرائیل کے وزیر اعظم  نیتان یاہو کے بیان کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہودی بستیوں  کی جگہوں کو اپنے زیر کنٹرول کرنے کے لئے اسرائیل کی طرف سے اٹھایا گیا کوئی بھی یک طرفہ قدم عدم استحکام اور مزید کشیدگی کا سبب بنے گا۔

ابو روضینہ  کا بیان فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی WAFA میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم اس نوعیت کے اقدامات کے اطلاق کے معاملے میں متنبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کی دریائے اردن کے الحاق کی کوششیں  قیام امن کی کوششوں کے خاتمے  کا اور کشیدگی میں اضافے کا سبب بنیں گی۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کی زمین سے متعلق جاری کئے جانے والے اس نوعیت کے تمام بیانات بین الاقوامی فیصلوں کے منافی ہیں۔

فلسطین لبریشن تنظیم کے سیکرٹری جنرل صائب عریقات نے بھی جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ ہم  نے ہماری طرف سے  مذاکرات  کرنے کی ذمہ داری نہ تو امریکہ کو سونپی ہے اور نہ ہی کسی اور کو۔ ہم اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے  دیں گے۔ فلسطینی ، فلسطین کی  زمین پر کسی  بھی ا سرائیلی خود مختاری کی اجازت نہیں دیں گے۔



متعللقہ خبریں