ڈالر نے پاکستانی منڈیوں کو آگ لگادی ، پاکستانی کرنسی آگ بجانے میں ناکام، اوپن مارکیٹ بند

معاشی ماہرین کاکہناہے کہ پاکستان پر بیرونی قرض کا حجم کم و بیش 89 ارب ڈالر ہے، ڈالر کی قدر میں حالیہ ریکارڈ اضافے کے باعث صرف ایک روز میں قرضوں کا حجم 800 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے

ڈالر نے پاکستانی منڈیوں کو آگ لگادی ، پاکستانی کرنسی آگ بجانے میں ناکام، اوپن مارکیٹ بند

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 115 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جس کہ وجہ سے کرنسی ڈیلرزنے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی خرید وفروخت بندکردی ہے۔

معاشی ماہرین کاکہناہے کہ پاکستان پر بیرونی قرض کا حجم کم و بیش 89 ارب ڈالر ہے، ڈالر کی قدر میں حالیہ ریکارڈ اضافے کے باعث صرف ایک روز میں قرضوں کا حجم 800 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔ ڈالر کی قدر میں اس اضافے کے باعث ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گاجبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کاامکان ہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ مرکزی بینک نے ظاہر کئے بغیر روپے کی سپورٹ ختم کرکے اس کی قدرکم کردی ہے ۔ اسٹیٹ بینک نے ادائیگیوں کے دباؤمیں توازن لانے کیلئے گزشتہ سال دسمبر میں بھی اسی طرح روپے کی قدر میں پانچ فیصد کمی کی تھی۔تفصیلات کے مطابق ڈالر مافیا نے صرف ایک گھنٹے کے اندر

ڈالر کی قیمت بڑھا کر اربوں روپے کما لئے‘ منگل کو اچانک روپے کی قدر میں 4 روپے 40 پیسے کی زبردست کمی ہوئی،جس کے باعث انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 110 روپے 60 پیسے سے بڑھ کر 115 روپے ہوگئی ، جبکہ اس دوران اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 111 روپے 50پیسے سے بڑھ کر 114روپے 50 پیسے ہوگئی ، مارکیٹ کے آغاز سے ڈالر کی قیمت میں تیزی کا رجحان سامنے آیا اورصرف ایک گھنٹے کے اندر اندر ڈالر کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے تک کا اضافہ ہوگیا اور اس دوران ایک وقت پر 116روپے 25پیسے تک پہنچ گیا ، جس کے بعد اسٹیٹ بینک نے فوری طور پر بینکوں کو ڈیلرز کو ڈالر کی خرید وفروخت کی قیمت کو مستحکم کرنے کے احکامات جاری کئے ‘مارکیٹ ذرائع کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اچانک اور چند منٹوں میں اتنا اضافہ کسی بڑی ڈالر مافیا کا کردار محسوس ہوتا ہے‘ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنا اعلامیہ جاری کیا جس میں اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے اور امریکی ڈالر کی شرحِ مبادلہ 115 روپے فی امریکی ڈالر پر بند ہوئی

فاریکس ڈیلرزاور ماہرین نے اس شک کا اظہار کیا کہ ڈالرکی قیمت میں اضافے کی وجہ عالمی مالیاتی اداروںسے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیے گئے وعدے ہیں‘ آئی ایم ایف اس بات کی جانب اشارہ کرتا رہا ہے کہ ڈالر کی موجودہ قیمت اس کی قدر کی صحیح عکاسی نہیں کرتی اور اس کے مطابق اسے 120 سے 125 روپے تک لے جانا ہوگا۔

 

 

 



متعللقہ خبریں