نئے سال کا پہلا دن خلائی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش دن بن گیا

ناسا کی خلائی گاڑی نظام شمسی  کے سورج سے دور ترین مقام پر پہنچی  اور الٹیما تھیولے نامی جسم کے قریب سے گزری

نئے سال کا پہلا دن خلائی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش دن بن گیا

نئے سال کا پہلا دن خلائی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش دن بن گیا ہے۔

ناسا کی خلائی گاڑی نظام شمسی  کے سورج سے دور ترین مقام پر پہنچی  اور الٹیما تھیولے نامی جسم کے قریب سے گزری۔

کیوپر بیلٹ  میں شامل اس خلائی جسم الٹیما تھیولے کی زمین سے مسافت 4.1 بلین اور پلوٹو سے 1 بلین  میل ہے۔

نیو ہوریزن نامی خلائی گاڑی کے اس خلائی جسم سے قریب ترین ہونے سے متعلق اولین سگنل  اس لمحے سے تقریباً 10 گھنٹے بعد   کل صبح 10:30بجے موصول ہوئے۔

اس کامیابی کے بعد نیو ہوریزن خلائی گاڑی نظام شمسی کے رازوں کی پردہ کشائی کے لئے الٹیما تھیلوے نامی اس خلائی جسم سے متعلق اعداد و شمار جمع کرے گی اور ان اعداد و شمار کے مکمل طور پر زمین پر پہنچنے میں دو سال کا عرصہ لگے گا۔

واضح رہے کہ یہ خلائی گاڑی الٹیما تھیولے تک پہنچنے سے قبل ساڑھے تین سال تک پلوٹو  کے اطراف میں سفر کرتی رہی ہے۔

واضح رہے کہ سال 2006 میں چھوڑی جانے والی نیو ہوریزن نامی اس خلائی گاڑی   کے بھیجے گئے ریڈیو سگنل کو زمین پر پہنچنے میں 6 گھنٹے سے زائد وقت لگتا ہے۔



متعللقہ خبریں