ہر سال، نگلے ہوئے پلاسٹک سینکروں پینگوئن کی موت کا سبب بن جاتے ہیں

ہر سال ہزاروں میکلان پینگوئن شکار کے لئے شمالی علاقوں کا رُخ کرتے ہیں لیکن ان علاقوں سے واپس اپنے علاقوں میں واپس نہیں لوٹ سکتے

ہر سال، نگلے ہوئے پلاسٹک سینکروں پینگوئن کی موت کا سبب بن جاتے ہیں

جنوبی امریکہ کے جنوبی علاقے پیٹاگونیا میں ہجرت کرنے والے لاکھوں میکلان مادہ پینگوئین محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔

جریدہ"کرنٹ بیالوجی"  میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق ہر سال ہزاروں میکلان پینگوئن شکار کے لئے شمالی علاقوں کا رُخ کرتے ہیں لیکن ان علاقوں سے واپس اپنے علاقوں میں واپس نہیں لوٹ سکتے۔

ہجرت کرنے والے پینگوئن میں سے بعض یوروگوئے ، ارجنٹائن اور برازیل کے ساحلوں پر محصور رہ جاتے ہیں اور بعض بھوک یا پھر نگلے ہوئے پلاسٹک کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

تحقیق کے سربراہ محقق تاکاشی یاماموتو اور ان کی ٹیم نے پینگوئن   کو پیش آنے والے حالات  کی چھان بین کے لئے تحقیق کا آغاز کیا۔

ٹیم نے 8 نر اور 6 مادہ میکلان پینگوئن کے پیروں میں جی پی ایس مونیٹر لگا کر سال 2017 کے آغاز میں تولیدی دور کے اختتام پر  ان کی نقل و حرکت کو نگاہ میں رکھا۔

چند ماہ کے تجزئیے کے بعد ٹیم نے دیکھا کہ نر پینگوئن بہار اور موسم گرما کی ہجرت کے دوران زیادہ گہرے پانیوں میں غوطہ لگانے اور پیٹاگونیا  کے تولیدی مقام سے زیادہ قریب رہنے جبکہ مادہ پینگوئن سطح آب سے قریب رہنے اور زیادہ شمال کی طرف ہجرت کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔

ماہرین نے مشاہدہ کیا کہ  مادہ پینگوئن کا  قد کاٹھ  نر کے مقابلے میں چھوٹا ہوتا ہے جس کی وجہ سے مادہ پینگوئن کو جنوبی پانیوں میں خوراک کی تلاش کے لئے رقابت میں یا پھر شمالی شدت والے بہاو کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا کہ شدید سمندری لہروں یا پھر انسانوں کی وجہ سے درپیش رکاوٹوں کی وجہ سے یہ پینگوئین محصور ہو جاتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ یاماموتو نے کہا کہ ہر سال واپس لوٹنے والے مادہ پینگوئن کی تعداد میں کمی میکلان پینگوئن کی  نسل کے لئے خطرہ بن رہی ہے۔


ٹیگز: پینگوئن

متعللقہ خبریں