ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ۔23

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ ۔23

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ۔23

 

چند روز قبل یورپ کے سب سے بڑے کنسرٹ ہال مانچسٹر ایرینا میں دہشت گرد تنظیم داعش نے  حملہ کیا تھا   ۔آج کے اس پروگرام میں ہم آپ کواس حملے اور علاقے پر اس کے اثرات کے بارے میں   اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار  جمیل دوعاچ اپیک  کا جائزہ   آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔

برطانیہ میں 21 ہزار افراد کی گنجائش کے   یورپ کے سب سے بڑے کنسرٹ ہال مانچسٹر ایرینا  میں کنسرٹ کے دوران بم کا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 22 افراد جن میں اکثریت بچوں اور نوجوانوں کی ہے  ہلاک اور انسٹھ زخمی ہو گئے ۔اس حملے کی ذمہ داری  دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی ہے ۔ داعش مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں  میں اس قسم کے حملوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس  وحشیانہ  حملے کے بعد برطانیہ   نے ملک بھر میں اعلیٰ سطحی حفاظتی تدابیر اختیار کر لیں   ۔اسوقت برطانیہ  کے ایجنڈے کی اہم ترین شق  سلامتی  ہے ۔ یورپ کے دیگر ممالک بھی سلامتی کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں ۔ فرانس  کے نئے صدر مکرون نے صدر بننے کے بعد

ملک میں ہنگامی حالات  کے نفاذ کی مدت کو موسم خزاں تک  بڑھانے کا اعلان کیا  ہے ۔

 مانچسٹر   میں دہشت گرد حملے سے متعلقہ  انٹیلیجنس شیئرنگ کے  معاملے میں برطانیہ اور امریکہ کے مابین سنجیدہ بحران  پیدا ہوا ۔ برطانیہ نے امریکہ  کو خفیہ معلومات   سے آگاہ کیا جنھیں فوری طور پرامریکی میڈیا  نے جاری کر دیا ۔ برطانیہ نے خفیہ معلومات کو آشکار کرنے کی وجہ سے سخت برہمی کا  اظہار کرتے ہوئے انٹیلی جنس شیئرنگ  نہ کرنے کا اعلان کیا ۔

سالہا سال سے دہشت گردی کیخلاف جدوجہد کرنے والے ملک ترکی نے بھی مانچسٹر حملے  پر شدید  رد عمل ظاہر کیا  ۔ وزارت خارجہ  کیطرف سے جاری اعلان میں برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں ہونے والے  وحشیانہ حملے کی   سخت الفاظ میں مذمت  کی گئی ۔دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر تعاون کی  ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسطرف توجہ دلائی گئی  کہ ترکی عالمی امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ بننے والی دہشت گردی اور تشدد کے خلاف عالمی برادری اور حلیف ممالک کیساتھ یکجہتی کو عزم کیساتھ جاری رکھے گا ۔ دہشت گردی تمام ممالک کے لیے سنجیدہ ترین خطرہ ہے  ۔دہشت گرد تنظیموں کے خلاف امتیاز کیے بغیر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گردی تمام ممالک اور عالم انسانیت کا مشترکہ مسئلہ ہے ۔

صدر رجب طیب ایردوان  نے مانچسٹر میں ہونے والے اس سفاکانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے  کہا  کہ ہم برطانوی عوام کے  دکھ درد کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتے ہیں   اور ان کے  غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہلاک ہونے والے کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد از جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں ۔ ترکی دہشت گردی کیخلاف جدوجہد میں دیگر ممالک کیطرح  برطانیہ کے بھی ساتھ ہے۔

 داعش 2014  کے بعد عراق   میں اپنے زیر کنٹرول 83 فیصد اور شام کے 56 فیصد علاقے سے ہاتھ دھو  بیٹھی اور اس کے مسلح عسکریت پسندوں کی تعداد میں واضح بھی  کمی  ہوئی  ۔  تنظیم کے مالی وسائل اور سالانہ آمدنی نصف ہو کر رہ گئی ہے   لیکن اس کے باوجود   داعش موصل میں سخت مزاحمت کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ عراق  کے  متعدد شہروں  کو ترک کرنے کے باوجود وہ مختلف مقامات پر بم حملوں کا سلسلہ جاری رکھےہوئے ہے ۔  داعش کے مالی وسائل اور آمدنی میں کمی آنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ داعش کا وجود مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے ۔

 یورپ میں سلامتی کی پالیسیوں  کے بڑھ جانے اور مسلمانوں  کے خلاف مفروضوں    میں اضافے کی وجہ سے  اپنے آپ کو معاشرے سے الگ تھلگ محسوس کرنے والا فرد یا گروپ  داعش  کی نظروں میں ہے ۔وہ ان گروپوں میں سے اپنے لیے  اراکین تلاش کرنے کے لیے سر گرم عمل ہے ۔اس صورتحال کے پیش نظر داعش کے حملوں کے جاری رہنے کی توقع کی جاسکتی ہے ۔  داعش عراق ،شام اور مشرق وسطیٰ میں  سرکاری انتظامیہ کےفقدان اور مقامی دشمنی  کے جاری رہنے والے علاقوں میں  اپنے لیے نئی جگہوں کی تلاش میں ہے  لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ داعش گوریلا طرز کی جنگ شروع کرئے گی ۔

شام کے علاقے راقہ اور  عراق کے شہر موصل کو اگر داعش کے قبضے سے وا گزار کروا بھی لیا گیا تو داعش  یا اس سے ملتی جلتی تنظیموں سے وابستہ دہشت گرد دنیا کے مختلف علاقوں میں اپنے خونریز حملوں کو جاری رکھیں گے ۔   ان وجوہات کو مد نظر رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف طویل المدت جدوجہد کے لیے عالمی سطح پر  یکجہتی اور درست حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ۔ داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کا زور توڑنے کے لیے ان کے نظریات کو  تبدیل کروانے،دہشت گردی سے  مقاصد کو نہ پا سکنے  کے نظریات کی حوصلہ افزائی کرنے اور مستقبل کو امیدوں کیساتھ دیکھنے کے لیے سیاسی نظام قائم   کی ضرورت ہے ۔

اسوقت امریکہ اور حلیف ممالک شام میں غلط سٹریٹیجی اپنائے ہوئے ہیں ۔ وہ داعش کیخلاف  دوسری دہشت گرد تنظیموں پی وائے جی اور وائےپی ڈی کو طاقتور بنا رہے ہیں ۔  کسی دہشت گرد تنظیم کو کسی دوسری تنظیم کو استعمال کرتے ہوئے ختم کروانا آگ کا کھیل ہے ۔ ایسی صورت میں داعش کو شکست بھی ہو جائے تو دوسری ریڈیکل تنظیمیں منظر عام پر آ جائیں گی ۔  ان حالات میں داعش  کو صرف میدان جنگ میں ہی نہیں نظریاتی پلیٹ فارم پر بھی شکست دینے کے لیے مشروع ایکٹرز کو حمایت فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں پر سب سے پہلے ذہن میں ترکیمین آتے ہیں  کیونکہ ترکیمینوں کا  ڈیموکریٹک، سیکولر ،ماڈرن، مغرب  اور مغربی اقدار کیساتھ کسی قسم کا کوئی مسئلہ موجود نہیں ہے ۔  وہ علاقے کے تمام نسلی اور مذہبی عناصرکا احترام کرنے والی قوم ہے ۔ اگر  ترکمینوں  کی حمایت کی جائے تو وہ داعش اور داعش  کو وجود میں لانے والے اسباب کو دور  کر سکتے ہیں ۔



متعللقہ خبریں