حالات کے آئینے میں 24

صدر ایردوان  کی جانب سے  یورپی یونین  کی پشت پناہی حاصل    ہونےو الی    دہشت گرد تنظیموں کے ایک دن   انہی  کے سر پر بلا  بننے     کا بار ہا   کہنے    کے باوجود   کسی بھی یورپی سربراہ نے  اس انتباہ کو  سنجیدہ نہیں لیا

حالات کے آئینے میں 24

دہشت گردی  تاریخِ انسانی  کی حد تک  ایک قدیم  بیماری    کی طرح  اپنے وجود کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ حضرت آدم ؑ کے فرزندقابیل   کے اپنے بھائی   ہابیل  کو  قتل کے ساتھ شروع ہونے والی دہشت گردی    بڑے  افسوس سے کہنا  پڑتا ہے کہ   عصر حاضر تک اپنے سفاکانہ  اور ظلم کو  جاری  رکھے ہوئے ہے۔

پہلے انسان کی   حد تک  قدیم  ہونے   والی  دہشت گردی اور تشدد    گاہے بگاہے  انسانوں کی زندگیوں کو  یرغمال بنانے  میں    کامیاب رہتا چلا آیا ہے۔

یالٹا   معاہدے کے  ساتھ قائم کردہ     عالمی نظام    کے خلاف   لوگ  1960 کی دہائی سے    بڑے سخت طریقے سے اعتراضات  کرتے چلے آئے ہیں۔مشہور   1968 کی    یوتھ موومنٹ  کے باعث   یورپ اور مغربی ملکوں  کو  اپنی لپیٹ میں  لینے والے تشدد   کے واقعات ایک بار پھر پوری دنیا   پر اپنی حاکمیت قائم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

خاصکر  اسلامی   جغرافیہ، افریقہ اور لاطینی امریکہ    میں  عام کیے جانے  کی خواہش ہونے  والی   دہشت گردی آج عالمی طاقتوں کے مراکز  کے  لیے  بھی  ایک خطرہ تشکیل  دینے لگی ہے۔

دہشت گرد کاروائیاں ،  ایشیا، یورپ، لاطینی  امریکہ اور اسلامی مملکتوں میں     وزیر اعظم کی  سطح پر   بھی جانوں  کو لیتے ہوئے   اپنی  حاکمیت   اور اجارہ داری  قائم کرنے   میں  تواتر سے   سر گردا ں   ہیں  ۔  اطالوی وزیر اعظم آلدو مورو اور   لبنانی وزیر اعظم   رفیق  حریری  کا قتل  اس   کی  محض چند ایک مثالیں ہیں۔

حال ہی میں موجودہ  دور کی   جدید  اور خطرناک ترین   عالمی     دہشت گرد تنظیم  اور اس کے سرغنہ کے  امریکی شہر پنسلووینیا  میں  مقیم ہونے والی فیتو   نے   15 جولائی 2016 کو صدرِ ترکی کو قتل کرنے  کی کوشش کی تھی۔ فیتو  کے دہشت گردوں نے  ایف۔16 طیاروں،  جنگی ہیلی کاپڑوں  ، ٹینکوں  و توپو ں کے ذریعے  15  جولائی کے روز    عوام کی ایک بڑی اکثریت کے ووٹوں کے ساتھ بر سر اقتدار آنے والے ایردوان  کو   اغواء  کرتے ہوئے قتل کرنے کی کوشش کی، تا ہم ترک  عوام  سینکڑوں کی تعداد میں  جانوں کا  نذرانہ      دیتے ہوئے    اپنے    سربراہ  کے سامنے   ڈ ھال بن گئے۔ انسانوں نے       اپنی جانوں  کی بازی لگاتے ہوئے     صدر   کو آنچ    تک نہ آنے دی۔

ترکی نے   اس  طرح کے ایک  دہشت گرد   حملے   کا سامنا کیا تھا تو  برطانیہ کے علاوہ  اس  کا اتحادی مغربی   کلب      ایک طویل مدت  تک   چپ سادھے  رکھا۔ روسی      صدر ولادیمر پوتن  کے بعد  فیتو    کے     فوجی یونیفارمز میں  ملبوس     دہشت گردوں  کے قتل عام اور  بغاوت کی کوشش  کے خلاف   رد عمل کا مظاہرہ کرنے والا   ترکی کا واحد اتحادی ملک  برطانیہ ہی تھا۔

یہ   بات  کافی مضحکہ خیز ہے کہ فیتو کے  دہشت گردوں کی جانب سے  جنگی طیاروں، ٹینکوں  اور توپوں کے   ذریعے   ترک  عوام کا قتل کرنے والی     اس شب کے بارے میں       ایک امریکی  سابق جرنیل  مائیک  فلائن کہ جو(   اب   امریکی صدر  ٹرمپ کی ٹیم میں بھی شامل ہیں )  نے    تعریفی  الفاظ  صرف کیے تھے۔

اس  دور  میں  بر سر اقتدار  اوباما انتظامیہ      اپنے اعلانات کے ساتھ   ترک   عوام   کی جانب سے ان دہشت گردوں کو مات دینے    پر اپنی  حیرانگی  کو  چھپانے سے قاصر تھی۔

نیٹو نے  ، میثاق کے   وفادار  اور طاقتور   ترین   اتحادیوں  میں شامل ترکی  میں   اس دہشت گرد کاروائی کے  سامنے   کئی  دن گزرنے کے بعد   دھیمی آوازمیں       اپنے وجود کا اظہار کرنے کی   کوشش  کی تھی۔

ترک لیڈر  ایردوان   نے  فیتو  کے دہشت گردوں کی جانب سے ان  پر قاتلانہ  حملے سے   کئی سال پیشتر  دہشت گردی  کے خلاف واضح مزاحمت کا  اعلان کیا تھا اور  تمام تر عالمی  سربراہان کو اس   مزاحمت میں   شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔

بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ  ترکی کے رکن ہونے والے مغربی  کلب سمیت     کئی ایک   طاقتور  ملکوں نے اس پیش رفت کے سامنے اپنی آنکھیں اور کان بند  کر رکھے  تھے۔ ترکی میں   ہزاروں کی تعداد میں  جرنیلوں، فوجی   افسران و  جوانوں،  پولیس  اہلکاروں اور شہریوں  کا قتل  کرنے والے دہشت گرد    اب ترکی کے اتحادی مغربی  ملکوں میں  پناہ لیے ہوئے ہیں۔ حتی ٰیہ ان ممالک میں ہر طرح کی بہترین    زندگی  بسر کر رہے ہیں۔

برلن سمیت یورپی یونین کے  ارکان کے تمام تر دارالحکومتوں میں    ترکی میں  معصوم انسانوں کے خون سے  اپنے ہاتھ  رنگنے والے    دہشت گرد   آرام و سکون سے  زندگی بسر رہے ہیں۔ حتی بعض   ارکان     اس پر  بھی اکتفا نہیں کررہے   بلکہ  ترکی میں  دہشت  گرد کاروائیوں میں  ملوث اور متعدد افراد کی ہلاکتوں کا موجب  بننے والوں  کو سفارتی پاسپورٹ       عطا کیے جانے کا علم ہوا ہے۔

صدر ایردوان  کی جانب سے  یورپی یونین  کی پشت پناہی حاصل    ہونےو الی    دہشت گرد تنظیموں کے ایک دن   انہی  کے سر پر بلا  بننے     کا بار ہا   کہنے    کے باوجود   کسی بھی یورپی سربراہ نے  اس انتباہ کو  سنجیدہ نہیں لیا۔  بڑے افسوس سے کہنا پڑتا  ہے کہ  یورپی سیاستدانوں  کی جانب  سے  کان   نہ دھرنے   والے    دہشت گردوں نے     ان ملکوں کے عوام کو بھی   اپنے زیر اثر لے لیا ہے۔

حال ہی میں   پیرس، برلن، برسلز  اور  لندن میں   دہشت گردی نے    اپنا  گھناؤنا چہرہ   دکھایا ہے تو کل  کس  شہر کو  اس قسم کے حملے کا نشانہ بنایا جائیگا  کا خوف عوام  میں  بیٹھ  گیا  ہے۔  یہ  ڈر و خوف   عوام کے عقلمندانہ   مؤقف  اختیار کرنے کی   راہ میں  بھی  رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ مثال کے  طور پر  گزشتہ   دنوں  اطالوی شہر تورینو میں  کھیلے گئے یو ای ایف اے  کے ایک میچ کے دوران   جھوٹ موٹ کی بم کی افواہ  سے    1500 سے زائد   افراد بھگڈر  مچنے سے زخمی ہو گئے۔

دہشت گردی     سے و سیع پیمانے  کے نقصانات اٹھانے والا یورپ دہشت گردوں کے ساتھ فاصلہ  رکھنے  کے  بجائے تا حال    دوسروں پر   الزامات عائد کر رہا ہے۔

مثال کے   طور پر ساڑھے تین سو  امریکی شہریوں کا قتل کروانے والی   دہشت گرد تنظیم  کا سرغنہ اگر ایشیا، افریقہ یا پھر   لاطینی  امریکی  ملکوں میں    ہوتا تو آیا کہ  امریکہ کا رد  عمل  کیا ہوتا۔  تا ہم انہی جرائم کا مرتکب اب امریکہ میں مقیم  ہے۔

اسی طرح کیا    بیلجیم  ، ترکی   میں ممتاز بزنس مین کو دہشت گردی کے  واقعات کی خاطر قتل کرنے والی   قاتل   عورت اگر افریقی  ملکوں کو راہ فرار اختیار کرتی تو    کیا اس ملک پر یورپی طاتیں اپنا قبضہ نہ جما لیتیں؟

ترکی کی ممتاز   کاروباری  شخصیت کی قاتل بیس برسوں سے  بیلجیم     میں     زندگی  گزار رہی ہے۔

اسی طرح  کیا امریکی قیادت کی  قوتوں نے  اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے    نہ  کرنے پر  افغانستان پر چڑھائی نہیں کی تھی؟

ترکی  بچوں ، خواتین ، بوڑھے  نوجوانوں کو قتل کرنے والے دہشت گرد آج   برلن  کی سڑکوں پر آزادانہ  طور پر  گھوم رہے ہیں۔ اس چیز کی ضرور کوئی وضاحت ہونی چاہیے۔

جب تک  ہم  "میرا دہشت گرد اچھا" تمھارا  برا   سوچ سے باز نہیں آتے اس بلا سے نجات  حاصل نہیں کر سکتے۔  لہذا      اب عقل سلیم سے کام لینا  چاہیے۔



متعللقہ خبریں