قدم بہ قدم پاکستان - 23

آئیے! آج آپ کو قلعہ روات کی سیر کرواتے ہیں

قدم بہ قدم پاکستان - 23

قدم بہ قدم پاکستان - 23

آئیے! آج آپ کو قلعہ روات کی سیر کرواتے ہیں۔

 قلعہ روات پوٹھوہار میں واقع ہے۔ راولپنڈی سے مشرق کی طرف گرینڈ ٹرنک روڈ جسے جی ٹی روڈ اور جرنیلی سڑک بھی کہا جاتا ہے، پر سفر کرتے ہوئے 17 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گاوں ہے جسے روات کہتے ہیں۔ روات کے بازار میں سے گزرتے ہوئے سامنے تاریخی قلعہ روات کا گیٹ دکھائی دیتا ہے۔

قلعہ روات سولہویں صدی عیسوی میں گکھڑوں نے بیرونی حملہ آوروں سے بچنے کے لئے تعمیر کروایا تھا۔ یہ قلعہ رہائشی مقاصد کے بجائے حفاظتی مقصد کے تحت تعمیر کروایاگیا تھا۔ جغرافیائی اہمیت اور جنوب مشرق میں واقع باغات اور چراگاہوں کی موجودگی کے باعث یہ علاقہ حملہ آوروں کا نشانہ بنتارہا۔ اکثر حملہ آور لوٹ مار کرنے کے لئے یہاں حملہ آورہوتے تھے۔ اس لیے یہ قلعہ تعمیر کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ قلعہ روات ایک پہاڑی سلسلے پر واقع ہے جو کہوٹہ سے مشرق کی طرف ہلال کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے اور راولپنڈی کے جنوب میں خوشحال گڑھ تک پھیلا ہوا ہے۔

قلعہ روات تقریباً چوکور شکل کا ہے۔ اس کے دو مرکزی دروازے ہیں۔ ایک مسجد تین بڑے گنبدوں پر مشتمل ہے۔ داخلی دروازے کے پہلو میں دو بڑے ستون تھے لیکن اب صرف ایک صحیح حالت میں موجود ہے۔ دیوار کے ساتھ فوجیوں کے لیے بیرکیں بنی ہوئی ہیں۔ قلعے کے درمیان میں کافی قبریں ہیں ان میں سلطان سارنگ خان کا مقبرہ بھی ہے جو گکھڑوں کا سردارتھا اور 1543ءمیں شیر شاہ سوری کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ مقرے کا طرز تعمیر ملتان میں موجود قبروں سے ملتا جلتا ہے۔ مقبرے پر گنبد تو اب موجود نہیں ہے لیکن مقبرے پر کی گئی نقش کاری کے آثار موجود ہیں۔

افغان حملہ آور شیر شاہ سوری نے روہتا س کے مقام ایک قلعہ تعمیر کروایا ۔اس نے سڑکیں اورسرائے بھی تعمیر کروائیں۔ قلعہ روات قلعہ روہتاس کی نسبت چھوٹا ہے اور اس کا فن تعمیر بھی سادہ ہے۔ روات کے لوگوں کا طرز زندگی مختلف تھا لیکن اسلام کی آمد اور گکھڑوں کے اثر و رسوخ کے بعد ان کا طرز زندگی بدل گیا۔

گکھڑ مغلوں سے شکست کھانے کے بعد ان کے وفادار اور حلیف بن گئے۔ جس کی وجہ سے ان کو اس علاقے کا دوبارہ مختار بنا دیا گیا۔ سارنگ خان کو سلطان کا خطاب بھی مغلوں نے ہی دیا تھا۔ 1765ءمیں سکھوں سے شکست کھانے کے بعد گکھڑوں کی سرداری کا خاتمہ ہو گیا۔ البتہ قلعہ روات آج بھی گکھڑوں کے عروج و زوال کی کہانی سنا رہا ہے اور سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہے۔

آئندہ ہفتے آپ کو کسی اور مقام کی سیر کروائیں گے تب تک اجازت دیجئے۔ اللہ حافظ ۔

 



متعللقہ خبریں