ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 13

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 13

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 13

پروگرام "ترکی یوریشیاء ایجنڈہ "کے ساتھ  آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ حالیہ سالوں میں  ترکی اور جرمنی کے باہمی تعلقات میں   یورپی یونین کے حوالے سے ہو یا پھر دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے کشیدگی جاری ہے۔جرمنی میں دو ترک وزراء کے اجلاس کو بودے اسباب کی وجہ سے  بین کئے جانے پر  ترکی میں حیرت کا اظہار کیا گیا۔ ہم بھی آج اپنے پروگرام میں ترکی اور جرمنی کے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ لیں گے۔

اتاترک یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر  جمیل چیچک دوعاچ  اپیک کا اس موضوع سے متعلق جائزہ پیش خدمت ہے۔

درپیش حالیہ بحران  کی وجہ  ترک وزراء کو جرمنی میں ترک کمیونٹی کے ساتھ ملاقات کی اجازت نہ دئیے جانے سے بڑھ کر ہے۔ اصل میں اس کشیدگی  اس سے  کہیں زیادہ ہے کیونکہ جرمنی کا یہ روّیہ کوئی نیا نہیں ہے۔سال 2005 مِں انگیلا مرکل کے چانسلر بننے سے لے کر اب تک ترکی۔جرمنی تعلقات میں شدید بحرانوں کا سامنا ہوتا رہا ہے۔

جرمنی کی خفیہ ایجنسی BND نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ وہ  سال 2009 سے لے کر اب تک ترکی کی فون ٹیپنگ کر رہی ہے۔ جرمن حکومت نے نیٹو کے رکن ملک ترکی کے دوست ملک نہ ہونے کا اشارہ دیا ہے۔

دوسری عالمی جنگ  کے بعد نازی ازم کو جرمن  سیاست سے خارج کر دیا گیا۔ تاہم نازی ازم  کی براہ راست معاشرتی ساخت  مکمل معنوں میں ختم نہیں ہوئی۔ دو ہزار سالہ غیر ملکی دشمن ترک ۔ اسلام  مخلاف رووں کو جرمنی میں پھلنے پھولنے کے لئے موزوں معاشرتی ساخت مل گئی۔ متعصب اور مرکزی سیاسی  پارٹیوں نے انتخابات  کے لئے ان واقعات کو اپنا ہدف بنایا۔جرمنی میں ہر انتخابی دور میں غیر ملکی اور ترک۔اسلام دشمنی  پر مبنی  نعروں  اور بیانات کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور اس روّیے میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ ترکی کو ہدف بنانا حالیہ دور میں جرمن سیاست  کی روایت بن گیا ہے۔ اسلام فوبیا میں اضافہ اور ترک دشمنی  میں تبدیل ہونے والے نفرت آمیز بیانات  معاشرتی  حلقوں سے سیاسی  حلقوں میں منتقل ہو گئے۔ اور نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ  یہ روّیہ  آج جرمنی کی حکومتی پالیسی میں تبدیل ہونے کے رجحان پر ہے۔

جرمنی اس وقت ماہ ستمبر میں متوقع اپنے انتخابات سے زیادہ ترکی کے ریفرینڈم اور صدر رجب طیب ایردوان پر بات کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی PKK اور فیتو کے دہشت گردوں کے لئے اپنے دروازے کھول رہا ہے۔حالیہ دنوں میں جرمن اخبارات میں صدر رجب طیب ایردوان چانسلر اینگیلا مرکل سے زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ جرمنی کے لئے کوئی صحتمندانہ طرز عمل نہیں ہے۔ جرمنی میں ایردوان فوبیا  جسے آپ ترک فوبیا یا اسلام فوبیا بھی کہہ سکتے ہیں بتدریج تقویت پکڑتا  جا رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ملت کی نمائندگی کرنے ، ملت کو اقتدار کے مرکز میں لانے اور ملت کے مفادات  کو بنیاد  بنانے والے آزاد  اور خودمختار پالیسیوں  پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ہدف بنایا جا رہا ہے۔

اصل میں جرمنی کو مشرق وسطی، بالقان، کاکیشیا، بحر اسود اور بحر روم  کے اتصال   کے محل وقوع کے حامل ملک ترکی کے اقتصادی حوالے سے مضبوط ہونے پر بے اطمینانی ہے۔ یہ درست ہے کہ ترکی اس وقت جرمنی اس وقت ترکی  کا سب سے اہم تجارتی ساجھے دار ہے تاہم برلن بعض شعبوں میں  ترکی کے اس کا حریف بننے سے بالکل بھی خوش نہیں ہے۔استنبول میں دنیا کا سب سے بڑا ائیر پورٹ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ پانچ سالوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیفیت جرمنی کو کس طرح بے اطمینان کر رہی ہے۔ استنبول کا یہ نیا ائیر پورٹ سالانہ 150 ملین  کے لگ بھگ مسافروں کی صلاحیت کا حامل ہو گا۔ اس طرح یہ ائیر پورٹ جرمنی کے فرینکفرٹ ائیر پورٹ  کی صلاحیت سے باہر بوجھ  کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔ یہی نہیں بلکہ اپنے اطراف کے جغرافیے کا سب سے بڑا ٹرانزٹ مقام بن جائے گا۔ علاوہ ازیں موجودہ دور میں کہ جب اقتصادیات  کا   مرکز یورپ سے زیادہ ایشیاء  کی طرف منتقل ہو  گیا ہے  استنبول جغرافیے کا ایک ڈنامک مرکز بن جائے گا۔

 15 جولائی  کے بعد ترکی کی حمایت کرنے کی بجائے خاموش تماشائی بننے کی وجہ سے  یورپی سیاست  دانوں  نے ترکی کو  بہت زیادہ مایوس کیا ہے۔   اس آزردگی میں جرمنی کے 2 جون 2016 میں نام نہاد  آرمینی نسل کشی کے بل کو قانونی حیثیت دینے کو بھی شامل کریں تو  ترکی میں جرمنی کے بارے میں تصور کے تیزی سے بگڑنے  کی وجہ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یورپ جس دوہرے روّیے کا ہمیشہ سے مظاہرہ کرتا آ رہا ہے اس کا ہم نے 15 جولائی  کے حملے کے اقدام میں بھی مشاہدہ کیا۔ 15 جولائی کو ترک ملت نے جمہوریت کے تحفظ کے لئے جس مزاحمت کا مظاہرہ کیا  اس کے مقابل  بھی یورپ  کے منفی طرز عمل  بھی سب کے سامنے ہے۔ لیکن جو چیز سب سے دلچسپ ہے وہ ترکی کے ریفرینڈم کے خلاف جرمنی کا خود کو ایک پوزیشن میں  لانے پر مجبور محسوس کرنا ہے۔ جرمنی اس وقت ترکی کے ریفرینڈم  کے لئے  نفی کی کمپین  کی کھلے بندوں حمایت کر رہا ہے۔ اس موضوع  کاجرمنی   سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے کہ آیا ترکی کا حکومتی نظام  پارلیمانی ہے یا پھر صدارتی۔ ترکی کے انتظامی نظام کا فیصلہ ترک ملت کرے گی جرمنی نہیں۔

ماہِ ستمبر میں متوقع جرمنی کے انتخابات کو  سوچیں تو  جو دکھائی دے رہا ہے وہ یہ کہ ترکی ۔ جرمنی تعلقات میں ماہِ ستمبر تک اور بھی زیادہ کشیدگی اور تناو  آئے گا۔ اگر جرمنی اپنے روّیے سے باز نہ آیا تو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات خوشگوار مستقبل کی ضمانت دینے والے تعلقات  کے نقطہ نظر سے ہٹ کر   ایک قطبی رجحان اختیار کرنے والے ترک۔جرمن تعلقات  کی کشیدگی مستقل جاری رہے گی۔

حاص کلام یہ کہ دوستانہ تعلقات  اور قوی تعاون  دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ کیونکہ ایسے شعبے موجود ہیں کہ جن میں   دونوں فریقین  کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ تاہم کشیدگی میں مستقل اضافہ ہونا ترکی سے زیادہ جرمنی کے لئے نقصان دہ ہے۔ ترکی اپنی خارجہ پالیسی میں ترجیحات میں اضافہ کر رہا ہے اور  خواہ یورپی یونین  اور جرمنی کے ساتھ ہو یا ان کے بغیر اپنے راستے پر چلنا جاری رکھے گا۔ لیکن جرمنی اور بعض  یورپی یونین  کے رکن ممالک  کا ترکی فوبیا یا اسلام فوبیا   یورپی یونین کے خود اپنے آپ کو ختم کرنے کا سبب بنے گا۔



متعللقہ خبریں