ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ02

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ02

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ02

 

 مصر میں  ایک ہفتے کے اندر فوجی عدالتوں   کی طرف سے پھانسی کی سزا دئیے جانے والے 19 قیدیوں کو  پھانسی دینے کے بعد نظریں اخوان المسلمین قیادت پر مرکوز ہو گئی ہیں ۔

جزیرہ نما سینا  میں دہشت گرد حملوں  کی وجہ سےجن 15 افراد کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی اس پر 26 دسمبر 2017  کو عمل درآمد ہوا ۔ جبکہ کفر الشیخ شہر میں بم حملوں کے ذمہ دار چار افراد کو دو جنوری کو پھانسی دی گئی ۔  پھانسی دئیے جانے والے ان افراد کا تعلق دہشت گرد تنظیم داعش اور بیت المقدس جیسی ریڈیکل تنظیموں سے تھا  لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ پھانسی دئیے جانے والے 15 افراد میں سے  کوئی اخوان المسلمین کا رکن تھا یا نہیں  ۔ اس موضوع سے متعلق مصری حکام سے بھی سرکاری  طور پر یا غیر سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں لیکن ایک ہفتے کے بعد دوبارہ منگل کے روز اسکندریے برج ال عرب جیل میں مزید چار قیدیوں کو پھانسی دینے سے صورتحال  سامنے آ گئی ۔

بیرون ملک سے نشریات کرنے والے اخوان المسلمین سے قریبی میڈیا نے اس موضوع کا مختلف انداز میں جائزہ لیا اور پھانسی دئیے جانے والے قیدیوں کی عدالتی پیروی  کے عمل پرنکتہ چینی شروع کر دی ۔ اخوان المسلمین کے قریبی حلقے اس صورتحال سے ششدر ہیں لیکن  وہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔مصری حلقوں اور باعتماد ذرائع سے حاصل لیکن غیر سرکاری معلومات کے مطابق  پھانسی دئیے گئے افراد میں اخوان المسلمین کے اراکین بھی شامل ہیں ۔ تنظیم سے قریبی ایک شخص نے اپنا نام بتانے سے گریز کرتے ہوئے   یہ معلومات فراہم کیں کہ  دو جنوری کو پھانسی دئیے جانے والے دو افراد اخوان المسلمین کے اراکین ہیں یاوہ  تنظیم سے قریبی رابطہ رکھتے ہیں ۔ جبکہ گزشتہ منگل کو پھانسی دئیے گئے 15 قیدیوں میں سے دو اخوان المسلمین کے اراکین ہیں ۔  یعنی 8 دن کے اندر پھانسی دئیے گئے 19 قیدیوں میں سے پانچ کا تعلق اخوان المسلمین سے ہے ۔  اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کا تعلق اخوان المسلمین  سے ہے تو یہ تنظیم کیوں خاموش ہے اور  اس کا اعلان کیوں نہیں کرتی ۔  اس کی بھی کئی وجوہات پائی جاتی ہیں ۔

پہلی وجہ ان افراد کو  دہشت گردی میں ملوث ہونے کی وجہ سے پھانسی کی سزا دینا ہے ۔ اگر تنظیم ان قیدیوں کا اپنا رکن ہونے کے طور پر اعلان کرئے تو اس سے تنظیم کے دہشت گردی میں ملوث ہونے  کا ثبوت سامنے آ سکتا ہے  ۔ ایسا ہونے کی صورت میں حکومت کے قریبی حلقے اور میڈیا  بڑھ چڑھ کر  اس مسئلے کو اچھالیں گے ۔  صدارتی انتخابات کے قریب تر آنےوالے اس دور میں ان قیدیوں جن کے پھانسی کی سزا کو ختم کرنے کی کوئی راہ باقی نہیں رہی ہے صرف صدر عبدالفتح السیسی  کو ہی معافی دینے کا اختیار حاصل ہے  قیدیوں کی حمایت سے اخوان المسلمین کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دوسری وجہ حالیہ انتخابات سے قبل عوام کی توجہ اس  مسئلے کی جانب   مبذول نہ کرنا ہے ۔  مصری عوام کو    اسوقت سخت مہنگائی کا سامنا ہے اور وہ اس کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرا رہے ہیں  ماہ اپریل تک صدارتی انتخابات کا اعلان کر نے کی توقع کی جا رہی ہے اور  اس سے قبل  اخوان المسلمین  کے سامنے آنے سے حکومت اخوان المسلمین کو دوبارہ ایک خوفناک تنظیم کے طور پر منظر عام پر لا سکتی ہے ۔

تیسری وجہ احمد شفیق کا مسئلہ ہے   اگر ۔ اخوان المسلمین  نے پھانسیوں کی سزا پر اعتراض اور شدید رد عمل  ظاہر کیا تو  اس کا   سابق صدر حسنی مبارک کے دور کے  وزیر اعظم احمد شفیق کے صدارتی امیدوار ہونے کی صورت میں ان کیساتھ تعاون  کرنے کی شکل میں  جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

 صورتحال سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اخوان المسلمین انتظامیہ انتخابات سے قبل  میڈیا کے ذریعے عوام کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کروانے  اور حکومت کی طرف سے اسے دوبارہ دشمن کے طور پر اعلان   کرنے کے اندیشوں کی   وجہ  سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے ۔

 اخوان المسلمین کیطرف سے پھانسیوں پر خاموشی اختیار کرنے اور اپنے اس موقف کو جاری رکھنے کی وجہ سے یہ اندیشے پیدا ہو رہے ہیں کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو    پھانسی کی سزا ؤں  پر عمل درآمد سے اخوان المسلمین کے اراکین کو پھانسی کی سزا دینے میں آسانی پیدا ہو جائے گی  کیونکہ اسوقت اخوان المسلمین کی رہبر کونسل کے سربراہ محمد بیدی ،تنظیم کے دوسرے نمبر کے لیڈر خیرات شاطر ،حریت اور انصاف پارٹی کے سیکریٹری جنرل محمد ال بلتاجی ، حریت اور انصاف پارٹی کے  ڈپٹی چیر مین عیسا مال اریان اور سابق قومی اسمبلی کے اسپیکر سعد ال کیتاتنی   کے لیے  پھانسی کی سزا  دینے کے احکامات موجود ہیں ۔

 ان افراد کو ابتدائی  عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی  تھی ۔  بعض ملزمان کی  سزا کو اعلیٰ عدالت نے  مسترد کر دیا ہے لیکن بعض افراد کی سزا­ؤں کے خاتمے کا مقدمہ ابھی تک اپیل کورٹ میں جاری ہے۔  ماہ اپریل میں ہونے والے ممکنہ انتخابات تک عدالتی عمل کے خاتمے اور  اخوان المسلمین کے  اعلیٰ منتظمین  میں سے چند کو پھانسی دینے کے احتمال پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے ۔



متعللقہ خبریں