ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 05

ترکی،  دنیا کے نامور  اسلحہ   اور دفاعی ٹیکنالوجی  پیدا کرنے والے اداکاروں کی صف میں   شامل ہوا ہے

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 05

جمہوریہ ترکی  کی شاخ ِ زیتون   آپریشن  کے ذریعے  دہشت گردی کے خلاف جدوجہد جاری ہے۔ ترکی  یہ جدوجہد   بڑی حد تک   قومی  دفاعی نظام کے ساتھ  سرانجام  دے رہا ہے۔ 

اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ  بین  الاقوامی  تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل  دوآچ اپیک کا    اس حوالے سے  جائزہ۔۔۔

ترک دفاعی صنعت  سرحد پار کاروائی میں  ایک کامیاب امتحان سے گزر رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں  گرد و نواح  کے ممالک  میں عدم استحکام کا ماحول اور ترک  فوج   کی عملی مداخلت کے  شعبہ  جات  میں جدت کی ضرورت   نئے  نظام کا احتیاج پیدا کر رہی ہے۔ ملک کو در پیش طرح طرح کے   خطرات  ،  عملی جامہ پہنائے جانے والے  منصوبوں کی تعداد اور ان کی نوعیت کو کثرت دے رہے ہیں۔ بڑھنے والے خطرات  کی سطح ترک  فوج   کی طاقت  میں اضافے  کے تقاضے کو بھی  منظر عام پر  لا رہی ہے۔

حالیہ 15 برسوں میں ترک  پیداوار دفاعی  آلات اور فوجی سازو سامان  کی برآمدات میں تقریباً 15 گنا اضافہ ہوا ہے  تو  ترک مسلح افواج کی جانب سے مقامی پیداوار کو ترجیح دینا  اس شعبے  میں  مضبوطی  آنے    کا موجب بنا ہے۔  سن 2013 سے ابتک دفاعی صنعتی سازو سامان کی  برآمدات  کرنے والی 450  ترک  فرموں نے 177 ملکوں کو  اپنی مصنوعات فروخت کی ہیں۔ گزشتہ برس  ترکی کی دفاعی برآمدات کی  سطح دو ارب ڈالر تک   رہی ہے تو  اس شعبے کا  ہوا پیمائی      شعبے کے ہمراہ   مجموعی    مالی حجم  6 ارب ڈالر  تک جا پہنچا ہے۔ سن 2002 میں 80 فیصد کے تناسب سے بیرونِ  ممالک پر  انحصار  عصر حاضر  میں 35 فیصد تک گر چکا ہے۔

بکتر بند   گاڑیوں،  مختصر اور درمیانے  فاصلے کے حامل راکٹ نظام،   مسلح ڈراؤن طیاروں، محارب   بحری  جہاز اور ان کے لیے موزوں  سازو سامان  کی مستقل بنیادوں پر پیداوار غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار میں گراوٹ لانے  میں معاون ثابت ہورہی ہے تو  یہ پیش  رفت قومی دفاعی    شعبے میں   ملکی ضروریات کو  براہ راست   طریقے سے پورا کرنے کے  اعتبار سے بھی قدرے   اہمیت کی حامل ہے۔  اس مثبت پیش رفت   میں بار آور ثابت ہونے والا ایک دوسرا عنصر ،اسلحہ اور فوجی سازو سامان تیار کرنے والے ممالک  کی جانب سے  سیاسی اسباب کے جواز میں ترکی کو اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی فراہمی میں دی گئی ضمانتوں کو  پورا  نہ  کرنا   یا پھر اس معاملے میں عدم  دلچسپی کا  مظاہرہ کرنا   ہے۔

جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان  کی جانب سے "برے ہمسایہ نے  ہمیں مالک بنا دیا" الفاظ کے ساتھ  پیش کردہ  اس سلسلے  کی بدولت  ترکی،  دنیا کے نامور  اسلحہ   اور دفاعی ٹیکنالوجی  پیدا کرنے والے اداکاروں کی صف میں   شامل ہوا ہے۔ خاصکر عراق اور شام   سے سیکورٹی کے خطرات   کے پیش نظر  نیٹو اور اقوام متحدہ   کے میثاق اصولوں کی ُرو سے  ترکی  کے لیے پورا کرنے کی ضرورت ہونے والی سلامتی و سرحدی دفاع  کی ضمانت  پر عمل پیرا نہ ہونا،  فضائی  دفاعی نظاموں  کو  ترکی کے لیے استعمال کرنے کی راہ میں  رکاوٹیں کھڑی کرنا ، ہنگامی ضرورت   کے حامل   بری اور فضائی آلات کی  تجدید   منصوبوں میں  سستی لانے کی طرح کے عوامل،  ملک کے میثاق میں  شامل   دیگر حصہ داروں کے ساتھ  عدم اعتماد  کا مسئلہ   پیدا ہونے کا موجب بنے ہیں۔

تازہ پیش رفت کے مطابق   دنیا کی اعلی ساکھ کی دفاعی صنعتی  لسٹ  کے  طور پر قبول کردہ "ڈیفنس نیوز ٹاپ  100"   میں تین ترک فرموں نے  جگہ بنائی ہے۔   ان فرموں کے مختلف منصوبوں   کے  عالمی تناظر میں  اہمیت حاصل کرنے سے  ترک فرموں کو دیے جانے والے آرڈرز میں بھی خاطر خواہ اضافے کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں  قومی امکانات اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تیار کردہ  جنگی اور گشتی ہیلی کاپٹر اتاک  کی فروخت کے لیے پاکستان کے ساتھ معاہدہ طے پایا ہے تو ڈراؤن  کی فروخت کے  معاملے میں ملیشیا کے ساتھ   اہم سطح کی بات چیت ہو رہی ہے۔

گزشتہ برس  فرات ڈھال آپریشن میں   قابل ذکرحد تک  بار آور ثابت ہونے والے آلتائے ٹینکوں  کی  باقاعدہ پیداوار شروع  ہو گئی ہے ،   جن کے  لیے مقامی انجن   کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے  کے امور میں سرعت  آئی  ہے۔ قلیل  فاصلے کے فضائی دفاعی  نظام آطل گان  اور زپکن کو کم  بلندی   سے    استعمال کیا  جا سکتا ہے تو درمیانی سطح کی بلندی کے حامل  حصار ۔اے منصوبے کے دائرہ کار میں سن 2020  سے اس کی باقاعدہ پیدا وار   کے آغاز کی توقع کی جاتی ہے۔

ہیلی کاپٹروں اور مسلح ڈراؤن  طیاروں پر نصب کیے  جا سکنے والے  والے جیرت میزائل  نے  حال ہی میں عفرین کے شاخِ زیتون آپریشن میں ترک مسلح افواج  کو  سنجیدہ سطح  کی معاونت فراہم کی ہے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ مقامی  اور قومی دفاعی نظام  کو سو فیصدی طور پر قومی ٹیکنالوجی  کے ذریعے تیار کیے جانے میں  ایک طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔ کیونکہ مالی اور ٹیکنالوجی  کے شعبہ جات میں  بعض حد بندیوں کی بنا پر  ترکی کو  ابھی  بھی ایک طویل  فاصلہ طے کرنا ہوگا۔ ہمیں علاوہ ازیں یہاں پر   اس بات کی بھی توضیح کرنی چاہیے کہ  دنیا کی  بڑی طاقتوں  سمیت  تقریباً ہر ملک  دوسرے ملکوں کے ساتھ دو طرفہ انحصار    کے تعلقات کا حامل ہے۔  دفاعی شعبے میں  مکمل  طور پر خود مختار ممالک  محض متحدہ امریکہ اور روس ہیں ،  لہذا ترکی کا  مستقبل قریب میں ان دونوں ملکوں کی ٹیکنالوجی کے ساتھ مقابلہ کر سکنا ایک آسان کام نہیں ہے۔ اس بنا پر ترکی  کی جانب سے طویل فاصلے کے حامل دفاعی نظام کو فروغ  دینے   سمیت    دیگر معاملات میں عوام کی توقعات   قلیل اور درمیانے عرصے کے بجائے طویل عرصے  پر محیط ہونی  چاہییں۔ کیونکہ قلیل مدت کی حامل  توقع حقیقت پسند نہیں ، علاوہ ازیں  یہ ملک کے لیے  بھاری مالی  بوجھ  بھی پیدا کرے گا۔  دوسری جانب  درمیانی اور طویل مدت میں   ترکی کاقومی دفاعی نظام اس کے علاقائی و عالمی اہداف  کے حصول میں  اہم ترین  خدمات  میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک، شعبہ بین الاقوامی تعلقات،  اتاترک یونیورسٹی



متعللقہ خبریں