ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 08

عفرین اور گرد و نواح کا علاقہ سینکڑوں برسوں تک ترکمان باشندوں کا مقام رہ چکا ہے

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ  08

 

! شامی مخالف گروہوں کے  اہم  اداروں میں سے ایک شامی ترکمان  مجلس  نے قلیل  مدت پیشتر  چوتھی بار پر جنرل  کمیٹی کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے  ایک نئے طریقہ کار کو اپنایا ہے۔

  اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے  لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کا اس موضوع  پر جائزہ۔۔۔  

جمہوریہ ترکی  کی حمایت میں قائم کردہ شامی ترکمان   مجلس نے 10 تا 11 فروری  انقرہ میں  اپنا چوتھا  عمومی   اجلاس  منعقد کیا۔ حلب ، لازکیہ ، ہما۔حمص، دمشق۔ گولان، راقہ علاقوں  اور تین سیاسی  جماعتوں کے ارکان  پر مشتمل  مجموعی طور پر 360 ترکمان ڈیلیگیشن  نے اولین طور پر 42 ارکان پر مشتمل   اسمبلی کا انتخاب کیا۔ بعد میں منتخب کردہ 42  ارکان نے نئے  چیئرمین کا  چناؤ کیا۔ارکانِ مجلس کے درمیان ہونے  والی رائے شماری کے  نتیجے  کے مطابق ڈاکٹر محمد وجیح جمعہ کو   ترکمان مجلس  کے چوتھے دور کے لیے چیئرمین منتخب کیا گیا۔

شامی جغرافیہ میں مقیم  قدیم ترین طبقوں میں سے  ایک  ترکمان ساتویں صدی سے   ابتک اس علاقے میں   اپنی  زندگیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ترکمان شام میں ایک  وسیع جغرافیے پر آباد ہیں۔ حلب، لازکیہ، ادلیب، حمص، ہما، تارتوس،  راقہ، درعا، دمشق اور گولان علاقوں میں ترکمان   باشندوں کا وجود پایا جاتا ہے۔ شامی ترکمان  صد ہا سال سے  رہائش کردہ علاقوں اور اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے اب اہم سطح کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

ترکمانوں  کی جدوجہد سن 2011 میں عوامی  بغاوت کے ساتھ  ہی اسد انتظامیہ  کی  ریاستی دہشت گردی کے خلاف شروع  ہوئی۔ سن 2011 سے لیکر ابتک  اسد قوتوں نے لبنانی سرحدوں پر واقع حلب  کے  بایر ۔ بوجاک، ہما  اور حمص  میں  ترکمان محلوں پر متعدد  بار  بمباری کی۔    ان حملوں کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد  میں ترکمان اپنی  جانوں سے ہاتھ  دھو بیٹھے۔ ترکمانوں کے  بیانات کے مطابق  زیر حراست  اور لاپتہ  ترکمان   باشندوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

یہ  طویل مدت تک  دہشت گرد  تنظیم داعش  کے خلاف نبردِ آزما رہے،  اب یہ ایک دوسری دہشت گرد تنظیم  PKK/ وائے پی جی  کے  خلاف بر سرِ پیکار ہیں۔ماضی میں داعش کے خلاف  جنگ کرنے والی ترکمان   فوج کے منقسم  ہونے   کو موقع بنانے والی PKK/ وائے پی جی   نے  قبضہ کردہ مقامات  پر  مقیم  ترکمان، عرب اور کردی  باشندوں کی  جبراً نقل مکانی کی اور   اس  کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو  قتل کر ڈالا ۔ عصرِ حاضر میں بھی   ترکمان  باشندے  دہشت گرد تنظیم PKK/ وائے پی جی   کی جانب سے  زبردستی  قبضہ کردہ علاقوں کی بازیابی  کے  زیر مقصد  نبرد آزما  ہیں۔

ترکمان  باشندے صد ہا سال سے شام میں  ، شامی عوام سے  ہٹ کر ایک مختلف طبقے کی حیثیت سے  اپنے وجود  کو قائم  رکھے ہوئے ہیں۔  شام میں ترکی زبان بولنے والے  تقریباً 15 لاکھ کے قریب ترکمان آباد ہیں۔ ترکمانوں کے وجود کی سلطنت ِ عثمانیہ   کے قدیم ریکارڈز سمیت  فرانسیسی مینڈیٹ  حکومت  کے ریکارڈز  اس  حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ ترکمانوں کو طویل  مدت سے انسانی حقوق کی پامالیوں اور قتلِ عام  کا سامنا ہے ، علاوہ ازیں یہ  ثقافتی حقوق  سے بھی محروم ہیں۔ اس غیر مہذبانہ صورتحال کے خلاف اب   عالمی برادری کو ردِعمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ترکمان  دور ِ حاضر میں  اپنے علاقوں  میں ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف  اپنی پوری طاقت سے  جنگ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ایک علیحدہ  وجود  کی حیثیت سے مذاکرات    میں شرکت کرنے اور اپنے حقوق کا بذاتِ خود دفاع کرنے کے متمنی ہیں۔ گو کہ شامی  مخالف گروہوں کے اندر بھی  ترکمانوں کی  مختلف  پلیٹ فارموں پر نمائندگی کی جا رہی ہے۔ تا ہم ان پلیٹ فارموں پر ترکمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنے  کےلیے صرف کردہ  جدوجہد  حد درجے اہم ہونے کے باوجود کافی ثابت نہیں ہورہی۔  کسی صحت مندانہ  حل کے لیے ترکمانوں کو بھی مذاکرات کی میز پر ایک علیحدہ  وجود کی حیثیت  سے جگہ لینی چاہیے۔

شام میں  وسیع پیمانے کے سیاسی حل کی تلاش کے لیے اٹھائے جانے والے تمام تر اقدامات  سے  طویل المدت مثبت نتائج کا حصول ملک کے تمام تر طرفین کو عطا کی جانے والی قانونی حیثیت  کی مضبوطی پر مبنی  ہے۔ اس  مفہوم میں  شام کی زمینی سالمیت  کے تحفظ کے اصول کے دائرہ عمل میں ترکمانوں   کو تشکیل دیے جانے والے نئے آئین میں  اس ملک میں  ان کے وجود کو  تسلیم کرنے اور ضمانت میں لینے  کی قانونی  حیثیت کاحصول لازمی ہے۔ اس مرحلے پر شامی  ترکمانوں  کو "بانی عوام" کی حیثیت دیا جانا اس حوالے سے پائدار حل کے دروازے کھول سکتا ہے۔

یہ لوگ  شام میں  عربوں کے بعد  سب سے زیادہ آباد  ی  کے حامل دوسرے  نسلی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شامی ترکمان سب سے زیادہ    ستم رسیدہ   طبقوں میں  سے ایک ہے، اس طبقے نے  کبھی بھی نسلی/مذہبی دہشت  گرد تنظیموں سے روابط نہیں رکھے اور انہوں نے ہمیشہ سے ہی شامی سر زمین کی سالمیت کا دفاع کیا ہے، لہذا  شامی ترکمانوں کے حقوق فراہم  کیے جانے کے مطالبات  حد درجے  جائز   اور منطقی ہیں۔

شام اور  مشرقِ وسطی کے جغرافیہ میں  ترکمان طبقہ  جدید،  مغربی ، جمہوری اور سیکولر نظریات  کا مالک ہے۔ اگر  عالمی برادری  اس حوالے سے حمایت فراہم کرتی ہے تو ترکمان باشندے مشرقِ وسطی اور شام میں جمہوری اور سیکولر نظم و نسق کے  قیام میں اہم کردار اد کر سکتے ہیں۔یہ  طاقتور بننے پر  مسلح اور فکری  جدوجہد   میں سلفی اور جہادی  تنظیموں کو شکست دے سکتے ہیں۔ اس طرح  یورپی خطہ بھی مہاجرین کے ریلوں  اور دہشت گرد تنظیموں   کا سامنا کرنے سے چھٹکارا پا سکتا ہے۔



متعللقہ خبریں