پاکستان ڈائری - 09

پاکستان ڈائری میں اس بار ہم آپ کی ملاقات کروائیں گے پاکستان کی مایہ ناز خاتون پولیس آفیسر ڈاکٹر انوش مسعود چوہدری سے

پاکستان ڈائری - 09

پاکستان ڈائری - 09

پاکستان ڈائری میں اس بار ہم آپ کی ملاقات کروائیں گے پاکستان کی مایہ ناز خاتون پولیس آفیسر ڈاکٹر انوش مسعود چوہدری سے وہ پہلے ڈاکٹر بنیں امتحانات میں گولڈ میڈل حاصل کیا ۔اس کے بعد سی ایس ایس امتیازی نمبروں سے پاس کرتے ہوئے خیبر پختون خواہ کی پہلی خاتون اے ایس پی تعینات ہوئیں بعد ازاں انکی پوسٹنگ پنجاب میں ہوگئ اور وہ لاہور میں ایس پی کینٹ انویسٹیگیشن ہیں ۔

ڈی آئی جی انویسٹیگیشن لاہور سلطان احمد چوہدری نے سال 2017 میں بہتر کارکردگی اور ڈویژن کی بہترین سپر وژن پر ایس پی کینٹ ڈاکٹر انوش مسعود چوھدری کو شاباش کے ساتھ تعریفی سرٹیفیکٹ سے بھی نوازا ڈاکٹر انوش مسعودچوھدری نے گزشتہ سال لاہور کے شعبہ انویسٹیگیشن میں تمام ڈویژن میں اشتہاریوں کی گرفتاری مقدمات کے بروقت چالان ، ملزمان کو سزائیں دلوانے کے ساتھ ساتھ بہترین کمانڈ اینڈ کنڑول پر پہلے نمبر پر رہی۔

ٹرکش ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ایس پی ڈاکٹر انوش مسعود چوہدری نے کہا وہ نو نومبر کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔تعلیم بھی لاہور سے حاصل کی پری میڈیکل لاہور کالج ویمن یونیورسٹی سے کیا ۔فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اورگولڈ میڈیل حاصل کیا۔میو ہسپتال میں ہاوس جاب کے دوران سی ایس ایس کی تیاری کی اور امتحان میں پورے پاکستان میں 34 ویں پوزیشن حاصل کی۔وہ کہتی ہیں میں نے اوپن میرٹ پر پولیس کے شعبے کا انتخاب کیا۔

میری  فیملی میں زیادہ تر لوگ ڈاکٹر ہیں میں نے بھی شعبہ طب میں تعلیم حاصل کی لیکن میں نے سوچا مجھے دوسرے شعبے میں جاکر عوام کی خدمت کرنا چاہیے۔میرا ارادہ تھا کہ میں اعلی تعلیم کے لئے باہر چلی جاو لیکن وہ موخر کیا ۔مجھے لگتا تھا کہ اگر باہر گئ تو واپس نہیں آسکو گی اس لئے میں یہاں رہنے کا فیصلہ کیا۔

پولیس میں آئی کیونکہ مجھے ہمشیہ سے یونیفارم اچھا لگتا تھا ۔لوگ ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں پولیس جوائن کرتے ہوئے لیکن میں یہ کہتی ہوں اس سروس کو جوائن کرکے آپ لوگوں کو بہت ریلیف دے سکتے ہیں۔اس شعبے میں آپ ون ٹو ون لوگوں سے بات کررہے ہوتے ہیں ان کے مسایل حل کرتے ہیں۔دوسرے بیوروکریسی کے شعبوں میں اس طرح نہیں ہوتا وہ بھی اچھا کام کررہے ہی تاہم پولیس عوام کے درمیان کام کررہی ہے۔

دور طالب کو یاد کرتےہوئے ایس پی ڈاکٹر انوش مسعود  نے کہا کے پڑھائی کے ساتھ میں غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی تھی۔مجھے کھیلوں میں حصہ لینے کا شوق تھا کالج اور یونیورسٹی دونوں میں بیڈ مینٹن،ٹینس خوب کھیلا ۔کالج سکول میں ٹرافیاں بھی جیتی۔جب ٹائم ہوتا تھا تو میوزک اور فلم بھی دیکھتی تھی ۔اب پولیس لائف میں اپنے لئے کم ٹائم ملتا ہے ۔وہ کہتی ہیں جب میں پولیس میں آئی والدین کی مکمل سپورٹ حاصل تھئ۔میں بیورو کریسی میں ہوں میرا سپروائزری رول ہے۔

وہ کہتی ہیں میری پہلی پوسٹنگ کے پی کے میں ہوئی اور میں خیبر پختون خواہ کی تاریخ کی پہلی خاتون اے ایس پی تھی۔ سال کے بعد میری پنجاب میں پوسٹنگ ہوگئ۔پہلے اے ایس پی راولپنڈی رہی پھر اے ایس پی ڈیفنس لاہور تعینات رہی ۔اب میں ترقی کے بعد کینٹ ڈویژن کی ایس پی انویسٹیگیشن  مقرر ہوئی ہوں۔

اس وقت میں 16 پولیسں اسٹیشن کی نگران ہو ۔جو بھی واقعہ ہمیں رپورٹ ہوتا ہے اس میں ہماری آپریشنز اور انویسٹیگیشن کی ٹیم پہنچ جاتی ہیں اور واقعہ مجھے رپورٹ ہوتا ہے۔میں ہدایات جاری کرتی ہوں اور خود بھی جائے وقوعہ پر جاتی ہوں۔رپورٹ درج ہونے کے بعد ہم تحقیقات شروع کرتے ہیں۔بڑے اجتماعات جیسے محرم کے جلوس میں بھی میں خود لک آفٹر کرتی ہوں ۔ائیرپورٹ کی سیکورٹی بھی ہمارے تھانے کے انڈر آتی ہیں ۔

پولیس آفیسر انوش مسعود  حال ہی میں تیزاب گردی کی شکار لڑکی بینش کو انصاف دلایا ہے جس پر انہیں عوامی حلقوں کی طرف سے بہت پذیرائی ملی۔وہ کہتی ہیں کہ بینش کو برن یونٹ میں خود ملنے گئ انکا خاندان وہاں موجود تھا اور بہت ہی رنجیدہ صورتحال تھی۔جب ہم نے تفتیش کا آغاز کیا تو کوئی سراغ نہیں تھا کہ لڑکے کا تعلق کہاں سے ہے۔موبائل نمبر دیگر لوکیشن سے ہم اسکے آبائی گاوں بھکر تک پہنچے پھر جب تفتیش شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ بس کے زریعے سے لیہ گیا تھا ۔بس اس لڑکی کو دیکھ کر اسکے خاندان کو دیکھ کر میں نے خود سے وعدہ کرلیا تھا کہ مجرم انکے سامنے لا کھڑا کروں گی۔لیہ اور بھکر دونوں جگہ ٹیمز گئ پھر ہم نے مجرم کو پکڑا ۔مجرم پر دہشتگردی کی دفعات لگی اور انسداد دہشت گردی کی عدالت سے 2 بار عمر قید، 30 لاکھ جرمانے کی سزا ہوئی۔ 

میرے سوال پوچھنے پر انہوں نے کہا کے بطور خاتون انکو کام کرتے ہوئے کبھی دشواری نہیں ہوئی۔وہ کہتی ہیں کام میں مشکلات آتی ہیں لیکن اچھے کام میں اللہ کی مدد ساتھ ہوتی ہے۔وہ کہتی ہیں اگر کسی کا دل کرتا ہے کہ پولیس میں آنا ہے تو ضرور آئیں انکے سامنے مثالیں ہیں یہ کام خواتین کو بھی سوٹ کرتا ہے۔تاہم محنت کے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔

فارغ اوقات میں انوش کھیلوں میں دلچسپی لیتی ہیں انہیں گھڑ سواری کا بھی شوق ہے۔موسیقی بھی پسند ہے اور شاپنگ کی بھی دلدادہ ہیں اور مصروفیت کے باعث آن لائن شاپنگ بھی کرتی ہیں ۔وقت ملے تو مختلف سیریز کے سیزن بھی دیکھتی ہیں۔لاہور کے دیسی کھانے انہیں پسند ہیں اور ساتھ چائنز فوڈ بھی۔وہ کہتی ہیں میں غصہ بہت کم کرتی ہو تحمل مزاجی کے ساتھ ڈسپلن کی قائل ہوں۔

 



متعللقہ خبریں