قدم بہ قدم پاکستان - 09

آج آپ کو نادرہ بیگم کے مقبرے پر لیے چلتے ہیں

قدم بہ قدم پاکستان - 09

قدم بہ قدم پاکستان - 09

سامعین محترم۔ السلام علیکم! پروگرام قدم بقدم پاکستان میں خوش آمدید۔ آئیے! آج آپ کو نادرہ بیگم کے مقبرے پر لیے چلتے ہیں۔

مغل بادشاہوں کے حسن ذوق اور فن تعمیر کو دنیا بھر میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے تعمیر کردہ باغات، قلعے اور مساجد کے علاوہ مقبرے بھی انفرادیت اور خاص کشش رکھتے ہیں۔ مغل شہزادے دارا شکوہ کی بیوی نادرہ بانو بیگم کا مقبرہ بھی خوبصورتی کی عمدہ مثال ہے۔ یہ مقبرہ دو منزلہ بارہ دری پر مشتمل ہے۔ زیادہ لوگوں کو اس کا علم نہیں کہ اس بارہ دری میں دارا شکوہ کی بیوی کا مقبرہ ہے۔

دارا شکوہ جو 1640ءکے عرصے میں لاہور کا گورنر رہا۔ مولانا محمد بدخشانی کا مرید تھا جو حضرت میاں میر کے مرید خاص تھے۔ دارا شکوہ نے اپنی تصنیف سکینة الاولیاءمیں لکھا ہے کہ....

حضرت شاہ محمد ملا شاہ، راہ حقیقت کے مالک، رموز طریقت سے آگاہ، عصر حاضر کے مقتدا، توحید میں مستغرق، اسرار وحدت کے شناسا، آفات کثرت سے بری، ظاہر و باطن میں کامل، فنافی الشیخ اور مشائخ وقت کے بادشاہ ہیں“۔

دارا شکوہ اور نادرہ بیگم اپنے دادا مرشد حضرت میاں میرؒ سے بھی والہانہ عقیدت رکھتے تھے اور یہاں حاضری دیا کرتے تھے۔ نادرہ بیگم نے یہ جگہ اپنی آخری آرام گاہ کے لئے منتخب کی اور اپنی زندگی میں ہی یہ بارہ دری بنوا لی تھی۔ مغلیہ دور میں یہ علاقہ عالم گنج کے نام سے مشہور اور گنجان آباد تھا۔ بڑے بڑے امرا یہاں رہائش پذیر تھے۔ اب یہ علاقہ میاں میر کے نام سے مشہور ہے۔

نادرہ بیگم شہزادہ پرویز بن جہانگیر بادشاہ کی بیٹی تھی۔ اس نے نہایت مشکلات اور تکلیف دہ حالات میں بھی دارا شکوہ کا ساتھ نبھایا۔ 1658ءمیں دارا شکوہ نے بادشاہ بننے کا اعلان کیا تو اورنگزیب نے بھی خود کو شہنشاہ ہند کا خطاب دیا اور اپنی فوج لے کر دہلی کی طرف بڑھا۔ دارا شکوہ کی فوج نے اس کا مقابلہ کیا لیکن اورنگزیب نے شکست دے کر دہلی کا تخت حاصل کر لیا۔ وکی پیڈیا کے مطابق دارا شکوہ اپنی بیوی نادرہ بیگم کے ہمراہ جان بچا کر بھاگا۔ وہ ایران جانا چاہتا تھا لیکن راستے میں جتنے سرداروں سے ملاقات ہوئی انہوں نے دارا شکوہ کی مدد اور کسی بھی قسم کا تعاون کرنے سے معذرت کر لی۔ اس دوران دارا شکوہ کو اپنے جواں سال بیٹوں کی موت کی خبر ملی جس نے دونوں میاں بیوی کو نڈھال کر دیا۔ نادرہ بیگم صدمے سے نڈھال ہو کر بیمار ہو گئی۔ اسی بیماری میں نادرہ بیگم انتقال کر گئی۔ بیٹوں کی وفات کے بعد بیوی کی موت کا صدمہ دارا شکوہ کے لئے ناقابل برداشت تھا۔

معروف محقق سید محمد لطیف اپنی مشہور کتاب تاریخ لاہور میں اس واقعہ کو یوں بیان کرتے ہیں کہ.... ”دارا شکوہ جب اورنگ زیب سے شکست کھا کر پناہ کے لئے سرگرداں تھا اور اس کی وفا شعار رفیقہ حیات نادرہ بیگم بھی اس دشت گردی میں اس کے ہمراہ تھی۔ وہ سفر کی صعوبتوں اور غریب الوطنی کی پریشانیوں سے اسہال کی بیماری میں مبتلا ہو گئی اور طویل علالت کے بعد انتقال کر گئی۔ یہ سانحہ سندھ میں بمقام ملک جیون وقوع پذیر ہوا۔ دارا شکوہ نے نادرہ بیگم کی وصیت کے مطابق اس کا تابوت اپنے ملازم خاص خواجہ مقبول اور میر گل محمد کی ملکیت میں لاہور بھجوایا جنہوں نے نادرہ بیگم کی میت کو حضرت میاں میر کے مزار کے نواح میں اس کی اپنی تعمیر شدہ بارہ دری میں دفن کر دیا“۔

حضرت میاں میرؒ کے مزار کے مشرقی جانب وسیع و عریض باغ میں خوبصورت دو منزلہ بارہ دری دکھائی دیتی ہے۔ بارہ دری کے گرد ایک بہت بڑا حوض تھا۔ صدر دروازے سے بارہ دری تک مضبوط اینٹوں سے راستہ بنا ہوا ہے۔ بارہ دری کی عمارت عہد جہانگیر کی شکار گاہ واقع شیخوپورہ سے مماثلت رکھتی ہے۔ طرز تعمیر عہد شاہجہانی کی ترجمانی کرتا ہے۔ بارہ دری خوبصورت چوکور عمارت پر مشتمل ہے۔ بارہ دری کے اندر اور باہر سنگ مرمر اور سنگ سرخ لگایا گیا تھا جو بارہ دری کی خوبصورتی میں اضافہ کا باعث تھا لیکن سکھوں کے دور حکومت میں یہ پتھر اتار لیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ اوقاف نے مزار اور بارہ دری کو اپنی تحویل میں لے کر ان کی مرمت اور آرائش کی طرف توجہ دی۔ خشک ہو جانے والے حوض کو سبزہ زار میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ بارہ دری کی اونچائی تقریباً 32 فٹ ہے۔ بارہ دری کی ہر دیوار 44 فٹ چوڑی ہے۔ پہلی منزل 13 فٹ اونچائی پر ہے۔ اوپر والی منزل پر جانے کے لئے دوطرف سیڑھیاں ہیں۔ قبر 6 فٹ 10 انچ لمبی، 2 فٹ 10 انچ چوڑی اور ایک فٹ 8 انچ اونچی ہے۔ قبر پر خط نستعلیق میں خوبصورت قرآنی خطاطی کی گئی ہے۔

اولیاءاللہ کے مزاروں پر ہر وقت قرآن مجید کی تلاوت اور فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور چراغ جلتے رہتے ہیں لیکن بادشاہوں کے مقبرے ویران رہتے ہیں۔

حضرت میاں میرؒ سے عقیدت اور ان کے قریب اپنا مقبرہ بنوانے کا نادرہ بیگم کو یہ فائدہ ہوا کہ حضرت میاں میرؒ کے مزار پر ہزاروں کی تعداد میں فاتحہ خوانی کے لئے حاضر ہونے والے عقیدت مند نادرہ بیگم کا مقبرہ دیکھنے کے علاوہ یہاں بھی فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔ یوں نادرہ بیگم حضرت میاں میرؒ کے فیض سے فیضیاب ہو رہی ہے۔

 

آپ کو حضرت میاں میرؒ کے مزار پر حاضری کا موقع ملے تو اس کے قریب واقع نادرہ بیگم کا مقبرہ دیکھنا نہ بھولیں۔

آئندہ ہفتے آپ کو پاکستان کے کسی اور مقام کی سیر کروائیں گے۔ تب تک کے لیے اپنے میزبان محمد شعیب کا اجازت دیجئے۔ اللہ حافظ۔

 



متعللقہ خبریں