قدم بہ قدم پاکستان - 10

پروگرام قدم بقدم پاکستان میں خوش آمدید۔ آئیے! آج آپ کو چولستان جیپ ریلی لیے چلتے ہیں

قدم بہ قدم پاکستان - 10

قدم بہ قدم پاکستان - 10

چولستان جیپ ریلی- 10

 السلام علیکم!پروگرام قدم بقدم پاکستان میں خوش آمدید۔ آئیے! آج آپ کو چولستان جیپ ریلی لیے چلتے ہیں۔

چولستان کی تاریخ پانچ ہزار سال قدیم ہے۔ یہاں کا عظیم ثقافتی ورثہ قدیم عہد کی یاد دلاتا ہے۔ یہاں صحرا‘ کئی قلعے‘ مساجد اور مزارات موجود ہیں۔ یہاں خانہ بدوش قبائل آباد ہیں جو مشکل حالات کے باوجود اپنی تہذیب وثقافت سے محبت کرتے ہیں۔ بہاولپور ڈویژن کے تین اضلاع تک پھیلا ہوا یہ صحرا چولستان کہلاتا ہے لیکن یہ وسیع صحرا ”روہی“ کے نام سے منفرد اور سحر انگیز شہرت رکھتا ہے۔ بہاولپور کی تحصیل احمد پورشرقیہ میں قدیم قلعہ دراوڑ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے ریت کے سمندر میں بحری جہاز لنگر انداز ہو۔ قلعہ دراوڑ کے پاس ہی چار صحابہ کرام ؓسے منسوب مزارات ہیں جہاں لوگوں کی بڑی تعداد حاضری دینے آتی ہے۔

قلعہ دراوڑ کے پہلو میں صحرا میں ہر سال فروری میں ایک میلے کا سا سماں ہوتا ہے۔ یہاں ایک وسیع خیمہ بستی آباد ہو جاتی ہے۔ ملک بھر سے لوگوں کی کثیر تعداد چولستان کا رخ کرتی ہے۔ 2005ءمیں ٹووارازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب (TDCP) نے صحرائے چولستان کی ثقافت کو اجاگر کرنے اور سیاحت کے فروغ کےلئے یہاں جیپ ریلی منعقد کرنے کا خواب دیکھا تھا لیکن اس کے لئے وسیع تجربہ اور تکنیکی مہارت درکار تھی۔ خوش قسمتی سے ٹی ڈی سی پی کو ہوبارہ فاﺅنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان (HFIP) کی معاونت حاصل ہوگئی۔ ہوبارہ فاﺅنڈیشن کو بہاولپور‘ لال سہانرا پارک‘ رحیم یار خان‘ رجھان‘ احمد پور شرقیہ‘ یزمان اور دیگر علاقوں میں فلاحی و سماجی خدمات پر مشتمل سینکڑوں منصوبوں کی تکمیل خاص طور پر صحرا میں تلور‘ چنکارا اور بلیک بک وغیرہ کی حفاظت و افزائش کے حوالے سے صحرا کے چپے چپے سے واقفیت اور اس میں سفر کا وسیع تجربہ حاصل تھا۔ ہوبارہ فاﺅنڈیشن کے صدر بریگیڈئر (ر) مختار احمد نے قومی مفاد کے پیش نظر کثیر مالی تعاون کے علاوہ اپنی تجربہ کار ٹیم کو مکمل تعاون کی ہدایت کی۔ ہوبارہ فاﺅنڈیشن کے میجر (ر) طاہر مجید جو خود بھی صحرا میں گاڑی چلانے کے ماہر ہیں۔ انہوں نے ای ڈی او فنانس راحیل صدیقی‘ میجر (ر) طاہر لئیق اور دیگر کے ہمراہ ریلی کے لئے ٹریک بنوایا۔ قواعد و ضوابط بنائے، پاک فوج نے کمیونیکشن سسٹم فراہم کیا۔ مقامی حکومت اور دیگر محکموں کے تعاون سے چولستان میں جیپ ریلی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ ہر سال جیپ ریلی ٹوورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب ہی منعقد کرتی ہے لیکن بنیادی تعاون اور انتظامات ہوبارہ فاﺅنڈیشن کرتی ہے۔

اس سال 15 سے 18 فروری تیرھویں جیپ ریلی منعقد کی گئی۔ اس میں حکومت پنجاب‘ محکمہ سیاحت‘ مقامی انتظامیہ‘ ہوبارہ فاﺅنڈیشن‘ بہاولپور 4X4 کلب‘ پاک فوج‘ پنجاب رینجرز‘ پنجاب پولیس‘ ٹیوٹا اور ڈیو کا تعاون شامل تھا۔ ذرائع ابلاغ پر تشہیر کی وجہ سے ملک بھر سے شائقین کی بڑی تعداد جیپ ریلی دیکھنے چولستان آئی۔ ٹی ڈی سی پی کے ذرائع کے مطابق شائقین کی تعداد تین لاکھ سے زائد تھی۔ ریلی میں 118 ڈرائیورز نے حصہ لیا جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ جبکہ تھائی لینڈ‘ کینیڈا اور برطانیہ سے بھی ڈرائیورز نے جیپ ریلی میں حصہ لیا۔ یوں یہ ایک بین الاقوامی ایونٹ بن گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں 220 کلو میٹر فاصلہ طے کرنا تھا۔ اس مرحلے میں 25 گاڑیوں نے یہ فاصلہ مقررہ وقت میں مکمل کیا۔ ہر گاڑی کو چار منٹ کے وقفے کے بعد روانہ کیا جاتا تھا۔ لوگوں کی بڑی تعداد پُرجوش نعروں میں گاڑیوں کو روانہ کرتی تھی۔ ٹریک کے راستے میں کئی چیک پوسٹیں قائم کی گئی تھیں۔ جہاں ہر گاڑی کا وقت نوٹ کیا جاتا تھا۔ ہر پوائنٹ پر شائقین کی بڑی تعداد ڈرائیورز کی حوصلہ افزائی کے لئے موجود ہوتی تھی۔ پاک فوج کے تحت نگرانی کا عمدہ انتظام تھا تاکہ کوئی ڈرائیور قواعد کی خلاف ورزی نہ کرے۔ پہلے مرحلے میں کامیاب ہونے والے 25 ڈرائیورز کے درمیان اگلے روز فائنل مقابلہ تھا۔ اس مرحلے کا فاصلہ 450 کلومیٹر تھا۔ یہ ٹریک بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کی سرحدوں کو چھوتا تھا۔ فائنل مقابلے میں نادر مگسی نے پہلی اور صاحبزادہ سلطان نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ خواتین میں لاہور کی تشنا پٹیل اول، عاصمہ رضا صدیقی دوم جبکہ ملتان کی مومل سعید سوم قرار پائیں۔ سینٹر سعود مجید جو کہ تجربہ کار ڈرائیور تھے ان کی گاڑی اُلٹ گئی۔ خود تو بچ گئے لیکن مقابلے سے باہر ہو گئے۔

شائقین کی دلچسپی کے لئے چار روزہ ایونٹ میں رنگا رنگ پروگراموں کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ صحرا میں خوبصورت خیموں پر مشتمل ایک بستی آباد کی گئی تھی۔ جہاں جیپ ریلی کے شرکائ، اپنے عملے، مداحوں اور سیاحوں کی کثیر تعداد کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ تاریخی قلعہ دراوڑ کو آرائشی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ قلعے کے صدر دروازے کے سامنے کلچرل نائٹ کا اہتمام کیا گیا تھاجس میں مقامی فنکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ علاقائی رقص پیش کیا گیا۔ اس موقع پر آتشبازی کا خوبصورت مظاہرہ بھی کیا گیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر انفارمیشن و کلچر مجتبیٰ شجاع الرحمن، رائے حیدر کھرل مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے سیاحت، ایم ڈی ٹی ڈی سی پی احمر ملک، ایڈیشنل چیف سیکرٹری عمر رسول اور مقامی انتظامیہ کے افسران نے بھی شرکت کی۔

یوں تو چولستان کا صحرا، قلعہ دراوڑ، عباسی مسجد دیگر قلعے، نواب آف بہاولپور کا محل، لائبریری اور دیگر مقامات سیاحوں کے لئے سارا سال کشش کا باعث ہیں لیکن ہر سال فروری میں ہونے والی جیب ریلی ایڈونچر کے شوقین ڈرائیورز اور دیگر رنگارنگ تقریبات کے شائقین اور سیاحوں کو دعوت نظارا دیتی ہیں۔

آئندہ ہفتے آپ کو پاکستان کے کسی اور خوبصورت مقام کی سیر کروائیں گے۔تب تک کے لیے اپنے میزبان محمد شعیب کو اجازت دیجیے۔ اللہ حافظ ۔

 



متعللقہ خبریں