حالات کے آئینے میں ۔ 10

حالات کے آئینے میں ۔ 10

حالات کے آئینے میں ۔ 10

پروگرام " حالات کے آئینے میں" کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ ترکی کے کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کے نقطہ نظر نے برّ اعظم افریقہ میں ترکی کے لئے نئے افق کھولے ہیں۔ افریقہ پالیسی کے دائرہ کار میں ترکی نے اہم سطح پر انسانی امداد کی متعدد کاروائیاں کیں، سفارتی تعلقات کو فروغ دیا اور افریقہ میں اسٹریٹجک مفادات حاصل کئے ہیں۔ مدد کرتے ہوئے ترکی کے نقطہ نظر کا  "استبدادی " نہ ہونا اور  افریقی ممالک کے ساتھ مشترکہ منافع کی بنیاد پر   تعلقات قائم کرنا ترکی کی کامیابیوں کے بنیادی اسباب میں سے ایک ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان  کا الجزائر، موریتانیہ، سینیگال اور مالی پر مشتمل دورہ افریقہ، ترکی اور افریقی ممالک کے درمیان اقتصادی  اور اسٹریٹجک تعاون کے فروغ  کے لئے ایک اہم قدم ہے۔

سیاست، اقتصادیات اور اجتماعی تحقیقاتی وقف  SETA کے محقق اور مصنف جان آجون  کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

ترکی کا افریقہ کے ساتھ تجارتی حجم 15 سال میں 6 گنا اضافے کے ساتھ 17.5 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ افریقہ میں ترک سرمایہ کاری سال 2003 میں 100 ملین ڈالر تھی جو 2017 میں بڑھ کر 6.5 بلین ڈالر  کے قریب پہنچ گئی ۔صدر رجب طیب ایردوان کے حالیہ دورہ افریقہ کے دوران  اقتصادی تعاون کے متعدد سمجھوتوں پر دستخط  کئے گئے۔ علاوہ ازیں ممالک کے درمیان تجارتی حجم  کے فروغ پر نئے اہداف کو تعین کیا گیا۔ مثال کے طور پر سینیگال اور ترکی کے درمیان تجارتی حجم کے 250 ملین ڈالر تک پہنچنے کے بعد 400 ملین ڈالر کا ایک نیا ہدف قائم کیا گیا ہے۔

ترکی کی افریقہ پالیسی مغرب کی استبدادی پالیسی کے برعکس دو طرفہ منافع  کے نقطہ نظر پر مبنی ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان کے دورہ الجزائر کے دوران الجزائر کے ایک اخباری نمائندے نے  عثمانی دورے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پوچھا کہ "کیا ترکی الجزائر کو اپنی کالونی کے طور پر دیکھتا تھا؟" اس کے جواب میں صدر ایردوان نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ سوال آپ مجھے فرانسیسی زبان میں نہیں ترکی زبان میں پوچھ رہے ہوتے"۔ صدر ایردوان کا یہ جواب اس بات کا ایک خوبصورت خلاصہ ہے کہ ترکی کی افریقہ پالیسی مغرب کی استبدادی پالیسی سے کس طرح مختلف ہے۔

ترکی کی افریقہ پالیسی کی کامیابی  کی تہہ میں کارفرما  دیگر بڑے عناصر میں سے ایک ترکی کی انسانی امداد  کی ڈپلومیسی ہے۔ ترکی کا اپنی قومی آمدنی کی شرح کے حوالے سے دنیا کا سب سے زیادہ انسانی امداد فراہم کرنے والا ملک ہونا اس بات کا عکاس ہے کہ ترکی انسانی خارجہ پالیسی کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔  ترکی صرف بھوک، قحط اور غربت  کے خلاف ہی جدوجہد نہیں کر رہا بلکہ جنگوں  کے متاثرین   اور بیماروں  کی بھی مدد کر رہا ہے۔

صدر ایردوان کی اہلیہ امینہ ایردوان  نے ترکی کی انسانی پالیسی کا خلاصہ یوں بیان کیا ہے "قحط افریقہ کا مقدر ہو سکتا  ہے لیکن بھوک کی وجہ سے موت  افریقہ کا مقدر نہیں ہے۔ اجتماعی ہلاکتیں مقدر نہیں ہیں۔ ہم افریقہ کے سیاسی استحکام کے لئے بین الاقوامی اداروں  کو متحرک کرنے تک افریقی عوام  میں خود اعتمادی  پیدا کر رہے ہیں"۔

ترکی کی افریقہ پالیسی کے دائرہ کار میں انسانی امداد  کے علاوہ اہم اور مثبت عناصر یعنی ٹرکش جنرل اسٹاف، وزارت اقتصادیات، وزارت ترقی، وزارت تعلیم ، وزارت خزانہ کا مشاورتی دفتر ، اجتماعی ہاوسنگ ادارہ ، AFAD، ہائر ایجوکیشن کریڈٹ اینڈ ہاسٹل ادارہ، ترکی ہلال احمر، بیرون ملک ترکوں کی یونین اور یونس ایمرے وقف اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ افریقہ میں ترکی کے اداروں اور آرگنائزیشنوں نے اہم منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ برّ اعظم افریقہ میں سول سوسائٹیوں کے بھی اہم  منصوبے موجود ہیں۔  ترکی اور افریقی ممالک کے عوام کے درمیان تعلق ہر گزرتے دن کے ساتھ تقویت پا رہا ہے۔

دوسری طرف اقتصادیات کے شعبے میں ترکی افریقہ میں خاص طور پر تعمیراتی شعبے میں ایک اہم کردار کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ترک کمپنیاں متعدد افریقی ممالک  میں متعدد اہم تعمیرات کر رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے دورہ افریقہ کے دوران ترک فرموں  کے تعمیراتی سائٹس کا بھی دورہ کیا۔

ترکی کی افریقہ پالیسی میں ایک اہم مسئلہ دہشتگرد تنظیم فیتو کے اسکول  اور ادارے ہیں۔

ترکی افریقی ممالک کے ساتھ فروغ پانے کے نتیجے میں ان ممالک میں فیتو کے اسکولوں کو بند کر کے معارف وقف کے حوالے کئے جانے کے لئے کاروائیاں کر رہا ہے۔ معارف وقف تیونس، تنزانیہ، سوڈان، صومالیہ، سیرالیون، ساوٹوم اینڈ پرنسپ، سینیگال، نائجر، موریتانیہ، مالی، کانگو، گنی، گیمبیا، چاڈ اور جیوبوٹی میں 88 اسکولوں کے ساتھ خدمات فراہم کر رہا ہے۔



متعللقہ خبریں