ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 37

ادلیب کی نازک صورتحال پر ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کا جائزہ

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 37

کئی ایک تجزیہ کار کے مطابق   ادلیب میں  جنگ چھڑنے  میں چند روز  ہی باقی بچے ہیں۔ علاقے  میں فوجیوں کی تعیناتی کا جائزہ لینے والوں کا یقین ہے کہ یہ آپریشن قلیل مدت کے اندر شروع ہو جائے گا۔  عالمی سطح پر طاقت کی جنگ   کے عنوان  کے زیرِ تحت ادلیب کے معاملے پر   قاراتیکن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کا جائزہ   ۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہزار  برسوں  تک برسراقتدار رہنے  کے بعد  اپنے زوال کی آخری سانسیں لیتے وقت مقدس  شہنشاہت روم  اب نہ  ہی مقدس تھی  اور نہ  ہی ایک شہنشاہت۔تقریباً  اڑھائی سو برس بعد موجودہ مسئلہ ،   حالیہ دور کی  آزاد دنیا  کے نظام  کا  نہ تو آزاد  اور نہ ہی  کسی  معینہ  فریم  پر مبنی ہے۔  کرہ  ارض کے ایک مکمل سالمیت کے اندر  ہونے کا کہنا  عصرِ حاضر میں  قدرے مشکل بنتا جا رہا ہے۔ عالمی فریمز کی تشکیل کی کوششیں  ناکامی  کا سامنا کر رہی ہیں۔ذاتی  تحفظ کی مفاہمت  زور  پکڑتی جا رہی ہے؛  عالمی تجارتی مراکز کی تازہ  کوششیں بے سود  ثابت ہوئی ہیں۔ سائبر شعبے  کے استعمال کے حوالے سے بہت کم اصول وضع کیے گئے ہیں۔ ان میں   زیادہ  تر شخصی  طور پر مراعات اور علاقائی نظام یا پھر  بد نظامی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ اس صورتحال کی  بہترین مثال مشرق وسطی اور بالخصوص شام کی موجودہ صورتحال ہے۔

موجودہ دنیا 1939 تا 1991 کی درمیانی مدت کی نظریاتی  جہاں شمولیت   دنیا سے قدرے مختلف ہے۔ یہ  جنگ عظیم اوّل  سے قبل  کے ماحول سے زیادہ  قریب دکھائی دیتی ہے۔ اسوقت عالمی و علاقائی قوتوں  کے نشیب و فراز کا شکار ہونے والے ایک دور میں قومی  طاقت کی جنگوں  کا مشاہدہ  ہو رہا ہے۔ سامراجی طاقت امریکہ   اپنی   موجودہ   حیثیت کو برقرار رکھنے کے  لیے مسلسل حربوں کے استعمال  کا درپے ہے۔ چین اور ترکی کی طرح کے طاقت پکڑنے والے اداکار امریکہ کی غیر متوازن طاقت اور مال و دولت   کے حصول  کی کوششوں سے بے چین ہیں۔  ریشین فیڈریشن اور یورپی یونین کی طرح کے  کثیر المملکتی ڈھانچے پرانے  نمود و نمائش کے ایام  کی جانب لوٹنے کے متلاشی ہیں۔ مغرب، سوویت یونین کی واپسی،  جبکہ روس مغربی تعاون  کی حامل انتظامیہ کی تبدیلی  کی  لہر سے خوفزدہ ہے تو  بھی ہر کس کا مشترکہ  خوف (بقول انکے)   انتہا پسند  اسلام ہے۔

دنیا کی عمومی صورتحال  کا جائزہ لینے سے اس حقیقت کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ سن  1945 تا 1989  کے دور کی طرح  عظیم سطح کی نظریاتی  جدوجہد   کا  اسوقت ہمیں سامنا  نہیں اور نہ ہی    کوئی آہنی  دیوار    دکھائی دیتی ہے۔ کسی مرکزی عالمی طاقت سمیت  زوال و بلندی کی جانب  مائل دیگر  طاقتیں بھی  سر گرم عمل ہیں۔ یہ صورتحال اس موضوع میں دلچسپی لینے والے ماہرین   کے بیچ بعض تنازعات کا موجب بن رہی ہے۔ بعض ماہرین  میں موجودہ حالات کو با معنی بنانے کے لیے سرد جنگ  کے نظریے  کو بالائے طاق رکھ رہے ہیں تو  یہ ایک درست مماثلث نہیں ، کیونکہ موجودہ حالات زیادہ تر انیسویں صدی کے دوسرے عشرے سے ملتے جلتے ہیں۔ یہ  دور نئی ظہور پذیر ہونے والی بڑی طاقتوں کے درمیان رقابت  اور بین الامملکتی تعلقات   کے نظریاتی حقوق  کے بجائے قومی مفادات  پر مبنی ہونے والا  ایک  دور تھا۔

موجودہ عالمی  ڈھانچے میں ایک  عظیم طاقت کا وجود موجود ہے ؛ تا ہم  یہ اپنے قومی مفادات کا دفاع یا پھر  کامیابی کی جستجو میں محو دیگر طاقتوں کی جانب  سے ہر گزرتے دن مزید  سامنے لائے جانے والے چیلنجز سے دو چار ہے۔  دنیا اکیسویں اور بیسیویں صدی کی نظر سے   سمجھنے کی کوشش کرتے  ہوئے ابھی بھی زیادہ پرانے دور   پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ لہذا اس چیز کو دو ٹوک کہنا ممکن ہے:ہم  کسی  سرد جنگ  کے دہانے پر نہیں  ہیں۔

آج شام علاقائی حتی عالمی خطوط کو  خطرے سے دو چار کر رہا ہے۔شام ،بری یا پھر فضائی حدود میں کسی بھی طرح جان بوجھ کر یا پھر انجانے میں  کنٹرول سے باہر  ہونے والے کسی تصادم  کو چھیڑ سکتا ہے۔ کئی ایک تجزیہ کاروں  کے مطابق  جنگ چھڑنے میں اب چند ہی ایام باقی بچے ہیں۔ علاقے  میں فوجی حرکات و سکنات  کا جائزہ لینے والوں کا یقین ہے کہ آپریشن  دہانے پر ہے۔ ملکی انتظامیہ کی قوتوں نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ ادلیب کے  ارد گرد کے تین مقامات  پر مورچیں سنبھال لیے ہیں  تو ان کی تعداد حلب  میں آپریشن کی تعداد کی حد تک ہے۔

ادلیب شام کی خانہ جنگی  کے اعتبار سے کسی گرہ کو کھولنے کےبجائے بعد میں نظام کے قیام  کے اعتبار سے  ایک کلیدی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپریشن کے آغاز کا تعین کرنے والے روس اور ترکی کے مابین ادلیب کی صورتحال اور  بعد   کے لیے کسی قسم کی مصالحت قائم کی جائیگی۔کیونکہ  دونوں ملکوں کے تعلقات  چاہے کسی بھی سڑیٹیجک   عنوانات  پر مبنی ہے  اور خاصکر شام میں حالیہ دو برسوں میں دونوں ملکوں کا باہمی تعاون  کسی توازن کے آلہ کار کے طور  پر دیکھا جا رہا ہے تو فی الحال ادلیب کے معاملے میں طرفین کے درمیان نظریاتی اختلافات  کو حل کیا جانا  دکھائی  نہیں دیتا۔

ترکی ادلیب  میں  ممکنہ جھڑپوں کودو پیش نظر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان میں سے پہلا کسی ممکنہ آپریشن   کی صورت میں  ترکی کے  لیے کوئی خطرہ  تشکیل دینے یا نہ دینے  پر مبنی ہے۔ اور دوسرا  مہاجرین کے نئے ریلوں کا ترکی میں  پناہ لینا ہے۔

طویل المدت  خطرات  شام میں تشکیل پانے والے کسی نئے نظام  میں ترکی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے  عناصر بھی شامل ہیں۔ شام میں خانہ جنگی کے نتائج چاہے کچھ بھی کیوں نہ ہوں نتیجتاً اس ملک سے  ترکی کے خلاف کسی خطرے   کا موقع  پیدا ہونے کی اجازت نہ دینے  کے لیے ترکی  سیاسی و سفارتی میدان  میں  اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ شام  کے بالخصوص شمال مشرق میں  PKK / پی وائے ڈی کے زیر کنٹرول کسی علاقے کا منظر عام پر آنا ترکی  کے لیے حیاتی  سطح  کے خطرے کو تشکیل دے گا، ادلیب کے بعد مساوات کو اس فریم میں دیکھا جائے گا۔

حالیہ ایام میں  شام میں تمام تر نگاہیں ادلیب کی جانب مرکوز ہونے کے وقت امریکہ  نے خاموشی سے پی وائے ڈی / پی کے کے  کے  لیے ایک حفاظتی علاقے کی تشکیل کے سلسلے کو شروع کر رکھا ہے۔ داعش کے خلاف جنگ  کے دائرہ کار میں امداد کے جاری ہونے کا دعوی  کیا جا رہا ہے تو بھی امریکہ کی  اپنے  سعودی عرب جیسے اتحادیوں کے ہمراہ سیاسی و اقتصادی  سرگرمیاں  یہ سوچ  پیدا کر رہی ہیں کہ شام کے شمال مشرق میں اولین طور پر "پرواز کے ممنوعہ علاقے "  اور بعد عمومی طور پر امریکہ کی سرپرستی میں کسی علاقے کی تشکیل  کی کوششوں میں  تیزی لائی گئی ہے۔ اس بنا پر ادلیب آپریشن جاری ہونے کے وقت شام کے شمال مشرقی علاقوں کو بھی بالائے طاق  رکھا جانا چاہیے۔



متعللقہ خبریں