حالات کے آئینے میں ۔ 37

حالات کے آئینے میں ۔ 37

حالات کے آئینے میں ۔ 37

پروگرام "حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ عراق کے انتخابات کے بعد چار ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود حکومت قائم نہیں ہو سکی۔ عراق کی سیاسی پارٹیوں کی اتحاد  اور حکومت بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ مقتدی الصدر کی زیر قیادت سائرون تحریک نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے اور حکومت بنانے کے لئے اہم اقدامات کئے ہیں۔ حکومت قائم کرنے کے لئے صدر تحریک کے چئیرمین مقتدی الصدر کی زیر قیادت سائرون، عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی کی زیر قیادت 'النصر'، عمار حکیم کی زیر قیادت 'حکمت ' اور عیاد  علاوی کی زیر قیادت وطنیہ کولیشن  نے چار فریقی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض سنّی پارٹیاں اور کرد نئی نسل تحریک  بھی اتحاد میں شامل ہو گئی ہیں۔ عراق میں نئی حکومت کی کابینہ کے قیام کے لئے اسمبلی نے دوسری نشست کا انعقاد کیا لیکن اسمبلی ممبران کی ضرورت سے کم شرکت کی وجہ سے اجلاس کو 15 ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا۔ عراق کے سابق وزیر اعظم اور قانونی حکومت کولیشن  کے رہنما نوری المالکی  اور فتح کولیشن  کے لیڈر عامری نے بھی اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا۔ عراق کے آئین کی رُو سے سب سے بڑے اتحاد کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے ۔ اور سب سے زیادہ مقتدی الصدر  ا تحاد کے کامیاب ہونے کا امکان ہے۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف SETA کے محقق اور مصنف جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

عراق کے آئین کی رُو سے نئی حکومت کے قیام کے لئے اسمبلی میں منعقدہ پہلی نشست میں سنّیوں میں سے اسمبلی اسپیکر کا انتخاب ضروری تھا۔ اسمبلی اسپیکر کے لئے صوبہ عنبر کے گورنر محمد الحلبوصی، نائب صدور اسامہ النجیفی، محمد تمیمی، رشید الازاوی، احمد جیبوری اور طلال ازبائی کے نام سرفہرست ہیں۔ تاہم سب سے بڑی دو کرد پارٹیوں کردستان ڈیموکریٹ پارٹی اور کردستان محبان وطن یونین پارٹی  نے اس تمام مرحلے میں غیر جانبدار رہنے  کو ترجیح دی اور اسمبلی کی نشست کا بائیکاٹ کر دیا۔

عراق میں حکومت بنانے کے مرحلے کو متعدد داخلی و خارجی عناصر متاثر کر رہے ہیں۔ عراق کے متعدد مختلف طبقے سیاسی ، مذہبی اور نسلی تفاوت کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ اور ایران کے درمیان رقابت عراق کی سیاست پر کافی حد تک اثر انداز ہو رہی ہے۔ ایرانی حمایت کے حامل سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی  اور ایرانی حمایت کی حامل   ساخت ہشدی شابی کے قائم کردہ فتح کولیشن کو عراقی سیاست میں اہم مقام حاصل ہے۔ علاوہ ازیں ہشدی شابی  کی فوجی ساخت ایرانی حمایت کے حامل کولیشن  کو سیاسی  قوت کے ساتھ ساتھ ساتھ فوجی قوت بھی فراہم کر رہی ہے۔ لبنان کی حزب اللہ  سے مشابہہ اس ساخت کے ساتھ ایران  عراق میں اپنے اثر و رسوخ کو ضمانت میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

دوسری طرف امریکہ بھی ایران کو عراق میں محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ کے دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جدوجہد کے نمائندہ خصوصی بریٹ میک گرک کی عراقی سیاسی شخصیات کے درمیان  شٹل ڈپلومیسی حکومت بنانے کی کوششوں پر اثر انداز  ہو رہی ہے۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ بریٹ میک گرک کے کردستان ڈیموکریٹ پارٹی  اور کردستان محبان وطن یونین  کے ساتھ مذاکرات دونوں کرد پارٹیوں کے  ایرانی حمایت  کے حامل کولیشن  کے ساتھ مشترکہ اقدامات کرنے میں مانع ہو گئے ہیں۔ امریکہ اگرچہ عراق میں الصدر تحریک کے رہنما مقتدی الصدر  کی زیر قیادت سائرون، عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی  کی زیر قیادت النصر،عمار حکیم  کی زیر قیادت حکمت  اور عیاد علاوہ کی زیر قیادت وطنیہ کولیشن  کی حمایت کر رہا ہے ۔لیکن خاص طور پر مقتدی الصدر کے امریکہ کے بارے میں منفی بیانات یہ ثابت کرتے ہیں کہ امریکہ اور اتحاد کے باہمی تعلقات مکمل طور پر مثبت نہیں ہیں۔

عراق میں حکومت  بنانے کی کوششوں  کو اہم بنانے والا ایک اور عنصر ترکی کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ہے۔ پی کے کے کی عراق میں  موجودگی کے مقابل  ترک مسلح افواج شمالی عراق  میں پُرعزم آپریشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور PKK کے ٹھکانوں اور گزرگاہوں کو کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں سنجار کے علاقے میں PKK کے خلاف خصوصی آپریشن کر کے  پوائنٹ فائرنگ کی جا رہی ہے۔ دہشتگرد تنظیم کے نام نہاد ریجنل کمانڈر  کو ترکی کی قومی خفیہ ایجنسی  اور ترک مسلح افواج  کے مشترکہ آپریشن کے ساتھ قومی مسلح ڈرون طیارے کی مدد سے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ عراق میں حکومت بنانے کی کوششیں ترکی کی دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کو بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ عراق میں حکومت بننے کی صورت میں ترکی کے عراق کے ساتھ ڈپلومیٹک مذاکرات  کی رہنمائی میں PKK کے خلاف آپریشنوں میں وسعت آ سکتی ہے۔ خاص طور پر PKK کے مادی وسائل  اور سنجار میں اس کی موجودگی کے خلاف   اقدامات کرنے کے لئے ترکی  حکومت پر دباو ڈال سکتا ہے۔

 



متعللقہ خبریں