ہم نہیں چاہتے ہیں کہ باغی، یونان اور ترکی کے باہمی تعلقات پر حملہ آور ہوں: بن علی یلدرم

ہم نہیں چاہتے ہیں کہ باغی، یونان اور ترکی کے باہمی تعلقات پر حملہ آور ہوں: بن علی یلدرم ، ہمیں عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے: الیکسس چپراس

ہم نہیں چاہتے ہیں کہ باغی، یونان اور ترکی کے باہمی تعلقات پر حملہ آور ہوں: بن علی یلدرم

ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اپنے یونانی ہم منصب الیکسس چپراس کے ساتھ ملاقات کی۔

مذاکرات کے بعد منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں 15 جولائی کو ترکی میں فیتو دہشت گرد تنظیم  کی طرف سے حملے کے  اقدام کے بعد یونان فرار ہونے والے باغیوں کی واپسی کا موضوع بھی ایجنڈے پر آیا۔

موضوع سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ یہ باغی یونان اور ترکی کے باہمی تعلقات پر حملہ نہ کریں"۔

تاہم یونان کے وزیر اعظم چپراس نے کہا کہ "ہمیں عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے"۔

وزیر اعظم یلدرم نے مسئلہ قبرص پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ  ترکی اور یونان کے لئے  اس مسئلے کا حل ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلے کا حل منصفانہ ہونا چاہیے اور ایک منصف انتظامیہ کا قیام ضروری ہے۔

وزیر اعظم یلدرم نے کہا کہ مسئلے کا حل ایسا ہونا چاہیے کہ جزیرے میں مقیم ترک  معاشرے کے لئے بھی اور یونانی معاشرے کے لئے بھی ضمانت ہو۔

الیکسس چپراس نے بھی مسئلہ قبرص کے حل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ قبرص کا منصفانہ  اور پائیدار حل ہمیشہ سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ موضوع علاقے کے استحکام کے حوالے سے بھی اہم ہے اور ہمارے خیال میں اقوام متحدہ کے فیصلوں کے دائرہ کار میں اس مسئلے کا  حل ہونا ضروری ہے۔



متعللقہ خبریں