یورپ کو مقدونیہ کو مثال بنانا چاہیے: وزیر خارجہ میولود چاوش اولو

ایک ایسے ماحول میں کہ جب اسلام مخالفت اور اسلام دشمنی ، عیسائیت  دشمنی، صیہونیت دشمنی ، عدم تحمل، نسلیت پرستی میں  تیز رفتاری سے  اضافہ ہو رہا ہے ہم یورپ کو مقدونیہ سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ چاوش اولو

یورپ کو مقدونیہ کو مثال بنانا چاہیے: وزیر خارجہ میولود چاوش اولو

ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے یورپ کو مقدونیہ کو مثال بنانے  کا مشورہ دیا ہے۔

مقدونیہ کے سرکاری دورے کے دوران میولود چاوش اولو نے ترکی کی اُسکپ میٹروپولیٹن بلدیہ کی زیر سرپرستی مقدونیہ ترکی چیمبر آف کامرس ، مقدونیہ  ترک سول سوسائٹیز یونین  اور ترکی تعاون و ترقی ایجنسی TİKAکی طرف سے منعقدہ افطار پروگرام میں شرکت کی۔

مقدونیہ کے صدر گیورگے ایوانوف اور وزیر خارجہ نکولا دمتروف کے ساتھ ساتھ مقدونیہ حکومت سے کثیر تعداد میں وزراء کی شرکت سے منعقدہ افطار پروگرام میں وزیر خارجہ چاوش اولو نے مقدونیہ  میں ترک الاصل سیاست دانوں ، اعلیٰ سطحی بیوروکریٹس، کاروباری حضرات اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کے منتظمین کے ساتھ ملاقات کی۔

تقریب سے خطاب میں میولود چاوش اولو نے کہا کہ مختلف نسلی  اور دینی گروپوں کے باہمی آہنگی اور اتحاد کے ماحول  نے مقدونیہ کو ایک مختلف رنگ عطا  کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسے ماحول میں کہ جب اسلام مخالفت اور اسلام دشمنی ، عیسائیت  دشمنی، صیہونیت دشمنی ، عدم تحمل، نسلیت پرستی میں  تیز رفتاری سے  اضافہ ہو رہا ہے ہم یورپ کو مقدونیہ سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

چاوش اولو نے کہا کہ ترکی ، نیٹو کی رکنیت سمیت  ہر شعبے میں مقدونیہ کے ساتھ تعاون کرے گا کیونکہ مقدونیہ کا استحکام اور تحفظ یورپ اور بالقان کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

مقدونیہ کے وزیر خارجہ دمتروف  نے بھی دوستوں کے ہمراہ افطار پروگرام میں شرکت پر مسرت کا اظہار  کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے شہری  اور مہمان صبح سے شام تک روزہ رکھتے ہیں لیکن اس کا مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں ہے بلکہ  روزہ بھوک پیاس کے ساتھ ساتھ ہمیں صبر، صداقت اور معنوی جذبات سے بھی آشنا کرتا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کل کی مصروفیات میں مقدونیہ  کے صدر اور وزیر خارجہ کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کی تھیں۔



متعللقہ خبریں