شامی شہر آفرین میں ہم ایک ہفتے میں دہشت گردوں کا صفایا کر سکتے ہیں، صدر رجب طیب ایردوان

جو سانپ کے ساتھ بستر  میں گھستا ہے  اس کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے، امریکہ اگر اپنے آپ کو دھوکے میں رکھتے ہوئے  سانپ کے  بل میں گھسنا چاہتا ہے تو پھر اس کی مرضی

شامی شہر آفرین میں ہم ایک ہفتے میں دہشت گردوں کا صفایا کر سکتے ہیں، صدر رجب طیب ایردوان

صدر رجب  طیب ایردوان نے شامی شہر آفرین  میں  دہشت گردوں  کے ہتھیار نہ ڈالنے کی صورت میں علاقے میں فوجی آپریشن  کا اشارہ دیا ہے۔

آق پارٹی کے چھٹے معمول کے کنونشن  میں شرکت کی غرض سے ضلع ایلازی میں خطاب کرنے والے صدر ایردوان نے کہا کہ "جس طرح ہم نے منبچ  اور عدلیب میں فوجی کاروائیاں کی ہیں ، اسی طرح ایک شب  کو ہم آفرین آپریشن کو بھی  شروع کر سکتے ہیں جو کہ ایک  ہفتے سے بھی کم مدت میں مکمل ہو جائیگا۔"

انہوں نے کہا کہ جب  دہشت گرد تنظیم  ترکی میں  اپنی کاروائیاں کرنے میں بے بس بن گئی تو اس نے  ہماری جنوبی سرحدوں پر  ایک دہشت گرد راہداری قائم کرنے کی کوششیں  شروع کر دیں، ہم عدلیب  آپریشن کے ذریعے  اس راہداری کی مغربی  پٹی کو تباہ کررہے ہیں، اگر آفرین  میں دہشت گردوں نے  ہتھیار نہ ڈالے تو  ہم وہاں پر بھی ان پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ ڈالیں گے۔

امریکہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم  کی شام میں شاخ وائے پی جی   کو اسلحہ امداد کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ِ ترکی نے کہا کہ "دہشت گرد کو وردی پہنانے اور اس کے قیام کردہ  عمارت پر اپنے ملک کا پرچم لہرانے سے حقیقت  چھُپا نہیں کرتی، علاقے کو   ہزاروں کی تعداد میں ٹریلروں اور طیاروں کے ذریعے  بھیجا گیا اسلحہ ابھی سے بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونا شروع ہو گیا ہے جبکہ اس کے ایک حصے کو ہمارے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو سانپ کے ساتھ بستر  میں گھستا ہے  اس کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے، امریکہ اگر اپنے آپ کو دھوکے میں رکھتے ہوئے  سانپ کے  بل میں گھسنا چاہتا ہے تو پھر اس کی مرضی۔ ہم اپنا تحفظ خود ہی کر لیں گے۔ دہشت گردوں کو اکٹھا کرتے ہوئے بنائی گئی  فوج کو ہم انشااللہ ایک ہفتے کے اندر نیست و نابود کر دیں گے۔



متعللقہ خبریں