بے ضمیر، بے ادب اور بد اخلاق لوگ ہم پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں، صدر ایردوان

وہ لوگ ہماری  سرحدوں پر دہشت گردوں کی راہداری قائم کرتے ہوئے  ہمیں، سرحد پار ہمارے بھائیوں سے جدا کرنا چاہتے ہیں

بے ضمیر، بے ادب اور بد اخلاق لوگ ہم پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان   نے شاخ زیتون  آپریشن میں عام شہریوں کی ہلاکتوں  کی افواہوں کے حوالے سے کہا کہ ہمارے خون میں  معصوم انسانوں کا قتل کرنا شامل نہیں اگر ہے تو یہ ان لوگوں کے خون میں ہے   جنہوں نے ہمیں  اس کاروائی پر مجبور کیا ہے۔

ضلع قاہرامان مراش میں  آق پارٹی کے چھٹے ضلعی کنونشن سے قبل عوام سے خطاب کرنے والے صدر ایردوان  نے عفرین میں  ترک مسلح افواج کے آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "کہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم وہاں پر عام  شہریوں  کا خون کر رہے ہیں، یہ کہنے والے بے ضمیر، بے ادب اور بد اخلاق ہیں۔ ہماری   اقدار اور ضمیر اس قسم کی گھناؤنی حرکت کی  ہر گز اجازت نہیں دیتا لیکن دس ہزار کلو میٹر  کی دوری سے آنے والا ہم پر یہ  الزام  عائد کر رہا ہے۔  ہم پر 911 کلو میٹر سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کوئی ہم سے یہ سوال نہیں کر سکتاکہ ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کیونکر جنگ لڑ رہے ہیں ۔ ہم اس عمل کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے یہ حقیقت ہر کس کو جان لینی چاہیے۔ یہ ملک، قوم اور فوج ہر گز 'ڈرپوک نہیں"  یہی وجہ ہے کہ ہم دہشت گردوں کو سبق چکھا رہے ہیں۔

انہوں نے بعد میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "وہ لوگ ہماری  سرحدوں پر دہشت گردوں کی راہداری قائم کرتے ہوئے  ہمیں، سرحد پار ہمارے بھائیوں سے جدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم  ،  ہمارے جانب  بڑھنے والے  گندے ہاتھوں کو توڑ ڈالیں گے۔ "

جنگی میدان میں ترکی کا مقابلہ نہ کر سکنے کا اندازہ کرنے والے اب  عالمی سطح پر جھوٹ موٹ اور الزام  تراشی کا سہارا لے رہے ہیں۔ لیکن ان کا یہ پراپیگنڈا کامیاب نہیں ہوگا۔ حقائق کے سامنے یہ تمام تر جھوٹ ، سورج کے سامنے   برف کے پگھلنے کی طرح   بخارات بنتے ہوئے اڑ جائینگے۔



متعللقہ خبریں