اگر فلسطینیوں کی بجائے کثیر تعداد میں یہودیوں کو ہلاک کر دیا جاتا تو دنیا کا ردعمل کیا ہوتا

ہم ، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے، اس کے اقتصادیات کو دہچکا لگا کر  اور ہالینڈ اور دیگر حکومتوں کی طرف سے پابندیاں  لگا کر اسرائیل سے اس قتل عام کا حساب پوچھ سکتے ہیں: رابرٹ سوٹرینک

اگر فلسطینیوں کی بجائے کثیر تعداد میں یہودیوں کو ہلاک کر دیا جاتا تو دنیا کا ردعمل کیا ہوتا

ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں ، اسرائیلی فوجیوں کے  ہاتھوں غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔

احتجاجی مظاہرے کا اہتمام ہالینڈ فلسطین کمیٹی  وقف کی طرف سے کیا گیا ، مظاہرے کے ساتھ مختلف سول سوسائٹیوں نے بھی تعاون کیا اور اس میں کثیر تعداد میں افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین ڈیم اسکوائر میں جمع ہوئے ، انہوں نے فلسطینی پرچم اور "فلسطین کے لئے آزادی "، "گرینڈ واپسی مارچ"، " بائیکاٹ اسرائیل" اور "خون بہانا بند کرو" کی عبارتوں والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے  اور مظاہرین نے " آزاد فلسطین"، "دہشت گرد اسرائیل ، دہشتگرد امریکہ " اور قاتل نیتان یاہو" کے نعرے لگائے۔

بعد ازں مظاہرین نے ایمسٹر ڈیم میں امریکی قونصل خانے کی طرف مارچ کی۔

ہالینڈ فلسطین کمیٹی وقف کے سربراہ رابرٹ سوٹرینک نے اپنے خطاب میں 14 مئی کو غزہ کی سرحد پر اسرائیل فوجیوں کی طرف سے کئے گئے قتل عام کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اسرائیلی وحشت پر بات کی گئی لیکن کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔

یہاں تک کہ ہالینڈ کی حکومت نے غزہ کے قتل عام کے بارے میں آزاد تحقیق کے مطالبے تک کو قبول نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ذرا سوچیں کہ اگر موجودہ کے بالکل برعکس فلسطینی ماہر نشانے بازوں کی طرف سے کثیر تعداد میں یہودیوں کو ہلاک کر دیا جاتا تو دنیا اور ہالینڈ کا ردعمل کیا ہوتا۔ گذشتہ دنوں میں ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں پر دباو میں مزید اضافہ کرے گا۔ اس کا ہدف مزید تشدد کے ساتھ فلسطینیوں کو ہراساں کرنا اور مزاحمت سے باز کرنا ہے"۔

سوٹرینک نے کہا کہ اسرائیل پر موئثر دباو ڈال کر قتل عام کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔  ہم ، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے، اس کے اقتصادیات کو دہچکا لگا کر  اور ہالینڈ اور دیگر حکومتوں کی طرف سے پابندیاں  لگا کر اسرائیل سے اس قتل عام کا حساب پوچھ سکتے ہیں۔ دباو اور تشدد کے خلاف فلسطین کی جدوجہد  ہماری بھی جدوجہد ہے۔



متعللقہ خبریں